Rabbis, Monks, Messiah (9:31)

...

The Repentance (9:31)


ٱتَّخَذُوٓا۟ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَـٰنَهُمْ أَرْبَابًۭا مِّن دُونِ ٱللَّهِ وَٱلْمَسِيحَ ٱبْنَ مَرْيَمَ وَمَآ أُمِرُوٓا۟ إِلَّا لِيَعْبُدُوٓا۟ إِلَـٰهًۭا وَٰحِدًۭا ۖ لَّآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ سُبْحَـٰنَهُۥ عَمَّا يُشْرِكُونَ ٣١


They have taken their rabbis and monks as well as the Messiah, son of Mary, as lords besides Allah,[1] even though they were commanded to worship none but One God. There is no god ˹worthy of worship˺ except Him. Glorified is He above what they associate ˹with Him˺!

— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran

[1] When ’Adi ibn Ḥâtim, a companion of the Prophet (), heard this verse, he said, “But the Jews and Christians do not worship their rabbis and monks!” The Prophet () replied, “Do the rabbis and monks not forbid the permissible and permit the forbidden, and they obey them?” ’Adi answered, “Yes, they do.” The Prophet () concluded, “This is how they worship them.” Collected by At-Tirmiⱬi.


They have taken their rabbis and their monks as gods beside Allah, and also (they have taken) MasīH the son of Maryam (as god). And they were not commanded but to worship only One God. There is no god but He. Pure is He from what they associate with Him.

— T. Usmani


They have taken their scholars and monks as lords besides Allāh,[1] and [also] the Messiah, the son of Mary.[2] And they were not commanded except to worship one God; there is no deity except Him. Exalted is He above whatever they associate with Him.

— Saheeh International

[1]By their obedience to them rather than to what Allāh ordained.

[2]By their worship of him in conjunction with Allāh.


 31. They (Jews and Christians) took their rabbis and their monks to be their lords besides Allâh (by obeying them in things which they made lawful or unlawful according to their own desires without being ordered by Allâh), and (they also took as their Lord) Messiah, son of Maryam (Mary), while they (Jews and Christians) were commanded [in the Taurât (Torah) and the Injeel (Gospel)] to worship none but One Ilâh (God - Allâh) Lâ ilâha illa Huwa (none has the right to be worshipped but He)[4]. Praise and glory be to Him (far above is He) from having the partners they associate (with Him)."

— Al-Hilali & Khan


They take their rabbis and their monks as lords, as well as Christ, the son of Mary. But they were commanded to serve only one God: there is no god but Him; He is far above whatever they set up as His partners!

— M.A.S. Abdel Haleem


[9:31] They take their rabbis and their monks for their lords apart from Allah, and also the Messiah, son of Mary, whereas they were commanded to worship none but the One True God. There is no god but He. Exalted be He above those whom they associate with Him in His Divinity.

— A. Maududi (Tafhim commentary)


They have taken as lords beside Allah their rabbis and their monks and the Messiah son of Mary, when they were bidden to worship only One Allah. There is no Allah save Him. Be He Glorified from all that they ascribe as partner (unto Him)!

— M. Pickthall


They take their priests and their anchorites to be their lords in derogation of Allah, and (they take as their Lord) Christ the son of Mary; yet they were commanded to worship but One Allah: there is no god but He. Praise and glory to Him: (Far is He) from having the partners they associate (with Him).

— A. Yusuf Ali


انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا ہے اور اسی طرح مسیح ابن مریم کو بھی۔ حالانکہ ان کو ایک معبود کے سوا کسی کی بندگی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا ، وہ جس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں ، پاک ہے وہ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

— Fe Zilal al-Qur'an


انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا ربّ بنا لیا ہے1 اور اسی طرح مسیح اِبنِ مریم کو بھی ، حالانکہ ان کو ایک معبود کے سوا کسی کی بندگی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا، وہ جس کے سوا کوئی مستحق ِ عبادت نہیں ، پاک ہے وہ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

— Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

[1]حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عَدِی بن حاتِم، جو پہلے عیسائی  تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر مشرف با اسلام ہوئے تو انہوں  منجملہ اور سوالات کے ایک یہ سوال بھی کیا تھا کہ اس آیت میں ہم پر اپنے علماء اور  درویشوں کو خد ا بنا لینے  کا جو الزام  عائد کیا گیا ہے اس کی اصلیت کیا ہے۔ جواب میں حضور نے فرمایا کہ یہ واقعہ نہیں ہے  کہ جو کچھ یہ لوگ حرام قرار دیتے ہیں اسے تم حرام مان لیتے ہو اور جو کچھ یہ حلال  قرار دیتے ہیں اسے حلال مان لیتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ یہ تو ضرور  ہم کرتے رہے ہیں۔ فرمایا بس یہی  ان کو خد ا بنا لینا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ  کتاب اللہ کی سند کے بغیر جو لوگ انسانی زندگی کے لیے جائز و ناجائز کی حدود مقرر  کرتے ہیں وہ دراصل خدائی کے مقام پر بزعمِ خود متمکن ہوتے ہیں اور جو ان کے اس حقِ  شریعت سازی کو تسلیم کرتے ہیں وہ انہیں خدابناتے ہیں۔

        یہ دونوں الزام ، یعنی  کسی کو خدا کا بیٹا قرار دینا، اور کسی کو شریعت سازی کا حق دے دینا، اس بات کے  ثبوت میں پیش کیے گئے ہیں کہ یہ لوگ ایمان باللہ کے دعوے میں جھوٹے ہیں۔ خدا کی  ہستی کو چاہے یہ مانتے ہوں مگر ان کا تصورِ خدائی اس قدر غلط ہے کہ اس کی وجہ سے  ان کا خدا کو ماننا نہ ماننے کے برابر ہو گیا ہے۔


ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایا ہے[1] اور مریم کے بیٹے مسیح کو حاﻻنکہ انہیں صرف ایک اکیلے اللہ ہی کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا جس کے سوا کوئی معبود نہیں وه پاک ہے ان کے شریک مقرر کرنے سے۔

— Maulana Muhammad Junagarhi

[1]اس کی تفسیر حضرت عدی بن حاتم (رضي الله عنه) کی بیان کردہ حدیث سے بخوبی ہو جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی (صلى الله عليه وسلم) سے یہ آیت سن کر عرض کیا کہ یہود و نصاریٰ نے تو اپنے علماء کی کبھی عبادت نہیں کی، پھر یہ کیوں کہا گیا کہ انہوں نے ان کو رب بنا لیا؟ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: ”یہ ٹھیک ہے کہ انہوں نے ان کی عبادت نہیں کی لیکن یہ بات تو ہے نا، کہ ان کے علماء نے جس کو حلال قرار دے دیا، اس کو انہوں نے حلال اور جس چیز کو حرام کر دیا اس کو حرام ہی سمجھا۔ یہی ان کی عبادت کرنا ہے“۔ (صحيح ترمذي- للأباني- نمبر2471) کیونکہ حرام وحلال کرنے کا اختیار صرف اللہ تعالٰی کو ہے یہی حق اگر کوئی شخص کسی اور کے اندر تسلیم کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اس کو اپنا رب بنا لیا ہے اس آیت میں ان لوگوں کے لیے بڑی تنبیہ ہے جنہوں نے اپنے اپنے پیشواؤں کو تحلیل وتحریم کا منصب دے رکھا ہے اور ان کے اقوال کے مقابلے میں وہ نصوص قرآن وحدیث کو بھی اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔


انہوں نے اپنے علماء اور مشائخ اور مسیح ابن مریم کو الله کے سوا خدا بنا لیا حالانکہ اُن کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ خدائے واحد کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور وہ ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے

— Fatah Muhammad Jalandhari


انہوں نے اپنے احبارو رہبان کو رب بنا لیا اللہ کے سوا اور مسیح ؑ ابن مریم کو بھی انہیں نہیں حکم دیا گیا تھا مگر اسی بات کا کہ وہ پوجیں صرف ایک الٰہ کو نہیں ہے کوئی معبود اس کے سوا۔ وہ پاک ہے اس سے جو شرک یہ لوگ کر رہے ہیں

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


ٹھہرا لیا اپنے عالموں اور درویشوں کو خدا اللہ کو چھوڑ کر [1] اور مسیح مریم کے بیٹے کو بھی اور انکو حکم یہی ہوا تھا کہ بندگی کریں ایک معبود کی کسی کی بندگی نہیں اسکے سوا وہ پاک ہے ان کے شریک بتلانے سے

— Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

[1]اہل کتاب کے علماء مشائخ کا حال:ان کے علماء مشائخ جو کچھ اپنی طرف سے مسئلہ بنا دیتے خواہ حلال کو حرام یا حرام کو حلال کہہ دیتے اسی کو سند سمجھتے کہ بس خدا کے ہاں ہم کو چھٹکارا ہو گیا۔ کتب سماویہ سے کچھ سروکار نہ رکھا تھا محض احبار و رہبان کے احکام پر چلتے تھے ۔ اور ان کا یہ حال تھا کہ تھوڑا سا مال یا جاہی فائدہ دیکھا اور حکم شریعت کو بدل ڈالا۔ جیسا کہ دو تین آیتوں کے بعد مذکور ہے ۔ پس جو منصب خدا کا تھا (یعنی حلال و حرام کی تشریح) وہ علماء مشائخ کو  دے دیا گیا تھا۔ اس لحاظ سے فرمایا کہ انہوں نے عالموں اور درویشوں کو خدا ٹھہرا لیا۔ نبی کریم ﷺ نے عدی بن حاتم کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے اسی طرح کی تشریح فرمائی ہے اور حضرت حذیفہ سے بھی ایسا ہی منقول ہے حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں 'عالم کا قول عوام کو سند ہے جب تک وہ شرع سےسمجھ کر کہے ۔ جب معلوم ہو کہ خود اپنی طرف سےکہا ، یا طمع وغیرہ سے کہا ، پھرسند نہیں'۔


انھوں نے اللہ کے سوا اپنے علماء اور مشائخ کو رب بنا ڈالا اور مسیح ابن مریم کو بھی حالاں کہ ان کو صرف یہ حکم تھا کہ وہ ایک معبود کی عبادت کریں  اس كے سوا كوئي معبود نهيں ، وہ پاک ہے اس سے جو وہ شریک کرتے ہیں

— Maulana Wahiduddin Khan


Inhon ne apne ulema aur darweshiyon ko Allah ke siwa apna Rubb bana liya hai aur isi tarah Maseeh ibn Maryam ko bhi, halanke inko ek mabood ke siwa kisi ki bandagi karne ka hukum nahin diya gaya tha, woh jiske siwa koi mustahiq e ibadat nahin. Paak hai woh in mushrikana baaton se jo yeh log karte hain

— Abul Ala Maududi(Roman Urdu)

[https://quran.com/9/31]


Allah is the only Rabb (Lord Sustainer), and thus, the only one worthy of worship. 

Allah only has the right to declare 'halal' and 'haram'. 

Allah has not delegated that authority to anyone. 

Allah the Razzaq, has clearly defined 'halal' and 'haram' across the text of the Quran. 

It is not permissible for anyone to declare 'halal' and 'haram' anything, as clearly explained in Surah alAn'am (The Cattle (6:145-150 [food], 6:151-153 [non-food]) and anNaml (The Honey Bee (16:114-119)). 

Moreover, there are other things that Allah has ordained, and declared haram and halal, as in the sacred months where aggression is prohibited, but defensive fighting is permissible. So, right after the strict denunciation on the taking of rabbs other than Allah, we find the first definition of Deen in The Quran (9:36) which defines the months of the year and the sacred months; and then denounces the people who make changes in that.  

So, reading along with the next few ayaat: 

The Repentance (9:31-40)


9:31

ٱتَّخَذُوٓا۟ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَـٰنَهُمْ أَرْبَابًۭا مِّن دُونِ ٱللَّهِ وَٱلْمَسِيحَ ٱبْنَ مَرْيَمَ وَمَآ أُمِرُوٓا۟ إِلَّا لِيَعْبُدُوٓا۟ إِلَـٰهًۭا وَٰحِدًۭا ۖ لَّآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ سُبْحَـٰنَهُۥ عَمَّا يُشْرِكُونَ ٣١

They have taken their scholars and monks as lords besides Allāh,[1] and [also] the Messiah, the son of Mary.[2] And they were not commanded except to worship one God; there is no deity except Him. Exalted is He above whatever they associate with Him.

— Saheeh International

[1]By their obedience to them rather than to what Allāh ordained.

[2]By their worship of him in conjunction with Allāh.

انہوں نے اپنے احبارو رہبان کو رب بنا لیا اللہ کے سوا اور مسیح ؑ ابن مریم کو بھی انہیں نہیں حکم دیا گیا تھا مگر اسی بات کا کہ وہ پوجیں صرف ایک الٰہ کو نہیں ہے کوئی معبود اس کے سوا۔ وہ پاک ہے اس سے جو شرک یہ لوگ کر رہے ہیں

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


9:32

يُرِيدُونَ أَن يُطْفِـُٔوا۟ نُورَ ٱللَّهِ بِأَفْوَٰهِهِمْ وَيَأْبَى ٱللَّهُ إِلَّآ أَن يُتِمَّ نُورَهُۥ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْكَـٰفِرُونَ ٣٢

They want to extinguish the light of Allāh with their mouths, but Allāh refuses except to perfect His light, although the disbelievers dislike it.

— Saheeh International

یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو بجھا دیں اپنے منہ (کی پھونکوں) سے اور اللہ کو ہرگز منظور نہیں ہے مگر یہ کہ وہ اپنے نور کا اتمام فرما کر رہے چاہے یہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار گزرے

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


9:33

هُوَ ٱلَّذِىٓ أَرْسَلَ رَسُولَهُۥ بِٱلْهُدَىٰ وَدِينِ ٱلْحَقِّ لِيُظْهِرَهُۥ عَلَى ٱلدِّينِ كُلِّهِۦ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْمُشْرِكُونَ ٣٣

It is He who has sent His Messenger with guidance and the religion of truth to manifest it over all religion, although they who associate others with Allāh dislike it.

— Saheeh International

وہی تو ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول کو الہدیٰ اور دین حق دے کرتا کہ غالب کردے اسے کل کے کل دین (نظام زندگی) پر خواہ یہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار گزرے

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


9:34

۞ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِنَّ كَثِيرًۭا مِّنَ ٱلْأَحْبَارِ وَٱلرُّهْبَانِ لَيَأْكُلُونَ أَمْوَٰلَ ٱلنَّاسِ بِٱلْبَـٰطِلِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۗ وَٱلَّذِينَ يَكْنِزُونَ ٱلذَّهَبَ وَٱلْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍۢ ٣٤

O you who have believed, indeed many of the scholars and the monks devour the wealth of people unjustly[1] and avert [them] from the way of Allāh. And those who hoard gold and silver and spend it not in the way of Allāh - give them tidings of a painful punishment.

— Saheeh International

[1]- i.e., through false pretense.

اے اہل ایمان یقیناً بہت سے علماء اور درویش ہڑپ کرتے ہیں لوگوں کے مال باطل طریقے سے اور روکتے ہیں لوگوں کو اللہ کے راستے سے اور وہ لوگ جو جمع کرتے ہیں اپنے پاس سونا اور چاندی اور خرچ نہیں کرتے اس کو اللہ کی راہ میں تو ان کو بشارت دے دیجیے درد ناک عذاب کی

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


9:35

يَوْمَ يُحْمَىٰ عَلَيْهَا فِى نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ ۖ هَـٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنفُسِكُمْ فَذُوقُوا۟ مَا كُنتُمْ تَكْنِزُونَ ٣٥

The Day when it[1] will be heated in the fire of Hell and seared therewith will be their foreheads, their flanks, and their backs, [it will be said], "This is what you hoarded for yourselves, so taste what you used to hoard."

— Saheeh International

[1]- The gold and silver which was hoarded, i.e., whose zakāh was not paid.

جس دن ان (سونے اور چاندی) کو تپایا جائے گا جہنم کی آگ میں اور پھر داغا جائے گا ان سے ان کی پیشانیوں ان کے پہلوؤں اور ان کی پیٹھوں کو (اور ساتھ کہا جائے گا) یہ ہے جو تم نے اپنے لیے اکٹھا کیا تھا تو اب چکھو مزا اس کا جو کچھ تم جمع کرتے تھے

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


9:36

إِنَّ عِدَّةَ ٱلشُّهُورِ عِندَ ٱللَّهِ ٱثْنَا عَشَرَ شَهْرًۭا فِى كِتَـٰبِ ٱللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ مِنْهَآ أَرْبَعَةٌ حُرُمٌۭ ۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّمُ ۚ فَلَا تَظْلِمُوا۟ فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ ۚ وَقَـٰتِلُوا۟ ٱلْمُشْرِكِينَ كَآفَّةًۭ كَمَا يُقَـٰتِلُونَكُمْ كَآفَّةًۭ ۚ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلْمُتَّقِينَ ٣٦

Indeed, the number of months with Allāh is twelve [lunar] months in the register of Allāh [from] the day He created the heavens and the earth; of these, four are sacred.[1] That is the correct religion [i.e., way], so do not wrong yourselves during them.[2] And fight against the disbelievers collectively as they fight against you collectively. And know that Allāh is with the righteous [who fear Him].

— Saheeh International

[1]See footnote to 9:5.

[2]i.e., do not violate the sacred months or commit aggression therein.

) بیشک اللہ کے ہاں مہینوں کی تعداد بارہ ہے اللہ کے قانون میں جس دن سے اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ان میں سے چار مہینے محترم ہیں یہی ہے سیدھا دین تو ان کے معاملے میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو اور مشرکین سے سب مل کر جنگ کرو جیسے وہ سب اکٹھے ہو کر تم سے جنگ کرتے ہیں اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


9:37

إِنَّمَا ٱلنَّسِىٓءُ زِيَادَةٌۭ فِى ٱلْكُفْرِ ۖ يُضَلُّ بِهِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يُحِلُّونَهُۥ عَامًۭا وَيُحَرِّمُونَهُۥ عَامًۭا لِّيُوَاطِـُٔوا۟ عِدَّةَ مَا حَرَّمَ ٱللَّهُ فَيُحِلُّوا۟ مَا حَرَّمَ ٱللَّهُ ۚ زُيِّنَ لَهُمْ سُوٓءُ أَعْمَـٰلِهِمْ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْكَـٰفِرِينَ ٣٧

Indeed, the postponing [of restriction within sacred months] is an increase in disbelief by which those who have disbelieved are led [further] astray. They make it[1] lawful one year and unlawful another year to correspond to the number made unlawful by Allāh[2] and [thus] make lawful what Allāh has made unlawful. Made pleasing to them is the evil of their deeds; and Allāh does not guide the disbelieving people.

— Saheeh International

[1]Fighting during a sacred month.

[2]If they found it advantageous to violate a sacred month, they would do so, designating another month in its place in which to observe the restrictions concerning fighting.

یہ مہینوں کو ہٹا کر آگے پیچھے کرلینا تو کفر میں ایک اضافہ ہے جس کے ذریعے سے گمراہی میں مبتلا کیے جاتے ہیں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ایک سال حلال کرلیتے ہیں اس (مہینے) کو اور ایک سال اسے حرام قرار دیتے ہیں تاکہ تعداد پوری کرلیں اس کی جو اللہ نے حرام ٹھہرائے ہیں اور (اس طرح) حلال کرلیتے وہ (مہینہ) جو اللہ نے حرام کیا ہے (اسی طرح) ان کے لیے مزین کردیے گئے ان کے برے اعمال۔ اور اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


9:38

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ ٱنفِرُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ٱثَّاقَلْتُمْ إِلَى ٱلْأَرْضِ ۚ أَرَضِيتُم بِٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا مِنَ ٱلْـَٔاخِرَةِ ۚ فَمَا مَتَـٰعُ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ ٣٨

O you who have believed, what is [the matter] with you that, when you are told to go forth in the cause of Allāh, you adhere heavily to the earth?[1] Are you satisfied with the life of this world rather than the Hereafter? But what is the enjoyment of worldly life compared to the Hereafter except a [very] little.

— Saheeh International

[1]- i.e., inclining toward the comforts of worldly life.

اے ایمان کے دعوے دارو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ نکلو اللہ کی راہ میں تو تم دھنسے جاتے ہو زمین کی طرف (سوچو !) کیا تم نے آخرت کی بجائے دنیا کی زندگی کو قبول کرلیا ہے ؟ تو (جان لو کہ) دنیا کی زندگی کا سازو سامان آخرت کے مقابلے میں بہت قلیل ہے

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

9:39

إِلَّا تَنفِرُوا۟ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًۭا وَيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوهُ شَيْـًۭٔا ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ ٣٩

If you do not go forth, He will punish you with a painful punishment and will replace you with another people, and you will not harm Him at all. And Allāh is over all things competent.

— Saheeh International

اگر تم نہیں نکلو گے (اللہ کی راہ میں تو) وہ تمہیں عذاب دے گا دردناک عذاب اور تمہیں ہٹا کر کسی اور قوم کو لے آئے گا اور تم اس کا کچھ بھی نقصان نہیں کرسکو گے اور اللہ ہرچیز پر قادر ہے

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

9:40

إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ ٱللَّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ثَانِىَ ٱثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِى ٱلْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَـٰحِبِهِۦ لَا تَحْزَنْ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَنَا ۖ فَأَنزَلَ ٱللَّهُ سَكِينَتَهُۥ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُۥ بِجُنُودٍۢ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ٱلسُّفْلَىٰ ۗ وَكَلِمَةُ ٱللَّهِ هِىَ ٱلْعُلْيَا ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ٤٠

If you do not aid him [i.e., the Prophet ()] - Allāh has already aided him when those who disbelieved had driven him out [of Makkah] as one of two,[1] when they were in the cave and he [i.e., Muḥammad ()] said to his companion, "Do not grieve; indeed Allāh is with us." And Allāh sent down His tranquility upon him and supported him with soldiers [i.e., angels] you did not see and made the word[2] of those who disbelieved the lowest,[3] while the word of Allāh[4] - that is the highest. And Allāh is Exalted in Might and Wise.

— Saheeh International

[1]The second was his companion, Abū Bakr.

[2]i.e., their claims and slogans.

[3]i.e., degraded and dishonored.

[4]'Lā ilāha ill-Allāh' ('There is no deity except Allāh').

اگر تم ان (رسول اللہ کی مدد نہیں کرو گے تو (کچھ پروا نہیں) اللہ نے تو اس وقت ان کی مدد کی تھی جب کافروں نے ان کو (مکہ سے) نکال دیا تھا (اس حال میں کہ) آپ دو میں کے دوسرے تھے جب کہ وہ دونوں غار میں تھے جبکہ وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے تو اللہ نے اپنی سکینت نازل فرمائی ان پر اور ان کی مدد فرمائی ان لشکروں سے جنہیں تم نہیں دیکھتے اور کافروں کی بات کو پست کردیا اور اللہ ہی کا کلمہ سب سے اونچا ہے اور اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

[https://quran.com/9/31-40]





...

Related Posts 

Complete List of Everything Halal 

Sanctity of Human Life & The Sin in Intoxicants 

Sanctity of Life of Believers 

The Psychology in The Quran 

Wronging the Nafs - II (The Forbidden & The Sacred) 

Wronging the Nafs - III (The Calendar) 

Dajjals in The Quran 

The Muslim Concept of Rapture 

...


Comments

Popular posts from this blog

Do not give short measure and weight (11:84, 87)

The Warning (11:26)

Shuaib preached: worship Allah (7:85)