That is Allah, your Rabb, so worship Him (10:3)

...

Jonah (10:3)


إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ ۖ يُدَبِّرُ ٱلْأَمْرَ ۖ مَا مِن شَفِيعٍ إِلَّا مِنۢ بَعْدِ إِذْنِهِۦ ۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمْ فَٱعْبُدُوهُ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ٣


Surely your Lord is Allah Who created the heavens and the earth in six Days,[1] then established Himself on the Throne, conducting every affair. None can intercede except by His permission. That is Allah—your Lord, so worship Him ˹alone˺. Will you not then be mindful?

— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran

[1] See footnote for 7:54.


Surely, your Lord is Allah, the One who created the heavens and the earth in six days, and then He positioned Himself on the Throne. He governs all affairs (of His creation). There is no one who could intercede before Him, except after His permission. That is Allah, your Lord. So, worship Him. Would you still pay no heed?

— T. Usmani


Indeed, your Lord is Allāh, who created the heavens and the earth in six days and then established Himself above the Throne,[1] arranging the matter [of His creation]. There is no intercessor except after His permission. That is Allāh, your Lord, so worship Him. Then will you not remember?

— Saheeh International

[1]- See footnotes to 2:19 and 7:54.


Your Lord is God who created the heavens and earth in six Days, then established Himself on the Throne, governing everything; there is no one that can intercede with Him, unless He has first given permission: this is God your Lord so worship Him. How can you not take heed?

— M.A.S. Abdel Haleem


 3. Surely, your Lord is Allâh Who created the heavens and the earth in six Days and then rose over (Istawâ ) the Throne (really in a manner that suits His Majesty), disposing the affair of all things. No intercessor (can plead with Him) except after His Leave. That is Allâh, your Lord; so worship Him (Alone). Then, will you not remember?

— Al-Hilali & Khan


Surely your Lord is Allah, Who created the heavens and the earth in six days, then established Himself on the Throne (of His Dominion), governing all affairs of the universe.1 None may intercede with Him except after obtaining His leave.2 Such is Allah, your Lord; do therefore serve Him.3 Will you not take heed?4

— A. Maududi (Tafhim commentary)

[1]This is to impress the fact that after creating the universe, Allah has not cut off connection with it, but has sat Himself upon His Throne and is practically directing and conducting and governing each and every part of it. The foolish people think that after creating the universe, Allah has left it to itself or to others to exploit it as they will. But the Quran refutes this and says that Allah Himself is governing His entire creation and He has kept all the powers and the reins of government in His own hands and whatever is taking place in each and every part of the universe is happening with His command or permission. In short, He is not only the Creator but also the Ruler, Designer and Supporter of the universe, which is working in accordance with His will. See also  (E.Ns 40, 41 of Surah Al-Aaaraf).

[2]This is to emphasize the other side of the matter. He is All-Powerful and there is none who dare make even a recommendation to Him about anything, not to speak of interfering with His management of affairs so as to cause any change in His decrees or in the making or marring of anyone’s fate. The most one can do is to make a supplication to Him but it all depends on His will to grant or reject it. There is none so powerful in His Kingdom as to have his own way in anything or to get his recommendations through anyhow.

[3]After stating the bare fact that Allah alone is the Lord, people are being told the kind of conduct that fact demands from them. That is, when Allah alone is your Lord, you should worship Him alone. In this connection, it should also be noted that just as the Arabic word Rabb implies three things namely Providence, Supremacy and Sovereignty, likewise the Arabic word ibadat also contains three corresponding implications.

[4](1) Worship: As Allah is his sole Providence, man should show his gratitude to Him by worshiping Him alone. He should pray and supplicate to Him and bow his head in reverence to Him and none else.


Lo! your Lord is Allah Who created the heavens and the earth in six Days, then He established Himself upon the Throne, directing all things. There is no intercessor (with Him) save after His permission. That is Allah, your Lord, so worship Him. Oh, will ye not remind?

— M. Pickthall


Verily your Lord is Allah, who created the heavens and the earth in six days, and is firmly established on the throne (of authority), regulating and governing all things. No intercessor (can plead with Him) except after His leave (hath been obtained). This is Allah your Lord; Him therefore serve ye: will ye not receive admonition?

— A. Yusuf Ali


'' حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب وہی خدا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا ، پھر تخت سلطنت پر جلوہ گر ہوکر کائنات کا انتظام چلا رہا ہے۔ کوئی شفاعت '' سفارش '' کرنے والا نہیں ہے۔ الا یہ کہ اس کی اجازت کے بعد شفاعت کرے۔ یہی اللہ تمہارا رب ہے۔ لہذا تم اسی کی عبادت کرو۔ پھر کیا تم ہوش میں نہ آؤ گے۔

— Fe Zilal al-Qur'an


حقیقت یہ ہے کہ تمہارا ربّ وہی خدا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر تختِ حکومت پر جلوہ گر ہوا اور کائنات کا انتظام چلارہا ہے۔1 کوئی شفاعت (سفارش) کرنے والا نہیں ہے اِلّا یہ کہ اس کی اجازت کے بعد شفاعت کرے۔2 یہی اللہ تمہارا ربّ ہے لہٰذا تم اُسی کی عبادت کرو۔3 پھر کیا تم ہوش میں نہ آوٴ گے؟4

— Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

[1]اوپر کےتین فقروں میں حقیقتِ نفس الامری کا بیان تھا کہ فی  الواقع خد ا ہی تمہارا رب ہے۔ اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ اِس امر واقعی کی موجودگی  میں تمہارا طرزِ عمل کیا ہونا چاہیے۔ جب واقعہ یہ ہے کہ ربوبیت بالکلیہ خدا کی ہے  تو اس کا لازمی تقاضا یہ  ہے کہ تم صرف  اُسی کی عبادت کرو ۔ پھر جس طرح ربوبیت کا لفظ تین مفہومات پر مشتمل ہے ، یعنی  پروردگاری، مالی و آقائی، اور فرماں روائی ، اسی طرح اس کے بالمقابل عبادت کا لفظ  بھی تین مفہومات پر مشتمل ہے۔ یعنی پرستش ، غلامی اور اطاعت۔

خدا کے واحد پروردگار ہونے سے لازم آتا ہے کہ انسان اسی کا  شکر گزار ہو، اسی سے دعائیں مانگے اور اسی کے آگے محبت و عقیدت سے سر جھکائے۔ یہ  عبادت کا پہلا مفہوم ہے۔

خدا کے واحد مالک و آقا ہونے سے لازم آتا ہے کہ انسان اس کا  بندہ و غلام بن کر رہے اور اُس کے مقابلہ   میں خود مختارانہ رویّہ نہ اختیار کرے اور اس کے سوا کسی اور کی ذہنی یا  عملی غلامی قبول نہ کرے۔ یہ عبادت کو دوسرا مفہوم ہے۔ 

خدا کے واحد مالک و آقا  ہونے سے لازم آتا ہے کہ انسان اس کے حلم کی اطاعت اور اس کے قانون کی پیروی کرے نہ  خود اپناحکمران بنے اور نہ اس کے سوا کسی   دوسرے کی حاکمیت تسلیم کرے۔ یہ عبادت کا تیسرا مفہوم ہے۔

[2]یعنی پیدا کرکے وہ معطل نہیں ہو گیا بلکہ اپنی پیدا کی ہوئی کائنات کے تخت  سلطنت پر وہ خود جلوہ فرما ہوا اور اب سارے جہان کا انتظام عملًا اُسی کے ہاتھ میں  ہے۔ نادان لوگ سمجھتے ہیں  خدا نے کائنات  کو پیدا کر کے یونہی چھوڑ دیا ہے کہ خود جس طرح چاہے چلتی رہے ، یا دوسروں کے  حوالے کر دیا ہے کہ وہ  اس  میں جیسا چاہیں تصرف کریں۔ قرآن اس کے برعکس یہ  حقیقت پیش کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی تخلیق کی اس پوری کا ر گاہ پر آپ ہی  حکمرانی کر رہا ہے ، تمام اختیارات اس کے اپنے ہاتھ میں ہیں، ساری زمامِ اقتدار پر  وہ خود قابض ہے، کائنات کے گوشے گوشے میں ہر وقت ہر آن جو کچھ ہو رہا ہے براہِ  راست اس کے حکم یا اذن سے ہو رہا ہے، اِس جہانِ ہستی  کے ساتھ اس کا تعلق صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ وہ  کبھی اسے وجود میں لایا تھا، بلکہ ہمہ وقت وہی اس کا  مدبر و منتظم ہے ، اسی کے قائم رکھنے سے یہ  قائم ہے اور اسی کے چلانے سے یہ چل رہا ہے۔ (ملاحظہ ہو سورۂ اعراف ، حاشیہ  نمبر 4۰، 41)۔

[3]یعنی جب یہ حقیقت تمہارے سامنے کھول دی گئی ہے  اور تم کو صاف صاف بتا دیا گیا ہے کہ اس حقیقت  کی موجودگی میں تمہارے لیے صحیح طرزِ عمل کیا ہے تو کیا اب بھی تمہاری آنکھیں نہ  کھلیں گی اور اُنہی غلط فہمیوں میں پڑے رہو گے جن کی بنا پر تمہاری زندگی کا پورا  رویہ اب تک حقیقت کے خلاف رہا ہے؟

[4]یعنی دنیا کی تدبیر و انتظام میں کسی دوسرے کا دخیل ہونا تو درکنار کوئی اتنا  اختیار بھی نہیں رکھتا کہ خدا سے سفارش کر کے اس کا کوئی فیصلہ بدلوا دے یا کسی کی  قسمت بنوا دے یا بگڑوا دے۔ زیادہ سے زیادہ کوئی   جو کچھ کر سکتا ہے وہ بس اتنا ہے کہ خدا سے دعا کرے، مگر اس کی دعا کا قبول  ہونا یا نہ ہونا بالکل خدا کی مرضی پر منحصر ہے۔ خدا کی خدائی میں اتنا زوردار  کوئی نہیں ہے کہ اس کی بات چل کر رہے اور اس کی سفارش ٹل نہ سکے اور وہ عرش کا  پایہ پکڑ کر بیٹھ جائے اور اپنی بات منوا کر ہی رہے۔


بلاشبہ تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کردیا پھر عرش پر قائم ہوا[1] وه ہر کام کی تدبیر کرتا ہے[2]۔ اس کی اجازت کے بغیر کوئی اس کے پاس سفارش کرنے واﻻ نہیں[3] ایسا اللہ تمہارا رب ہے سو تم اس کی عبادت کرو[4]، کیا تم پھر بھی نصیحت نہیں پکڑتے۔

— Maulana Muhammad Junagarhi

[1]اس کی وضاحت کے لئے دیکھئے سورہ اعراف آیت 54 کا حاشیہ۔

[2]یعنی آسمان و زمین کی تخلیق کرکے اس نے ان کو یوں ہی نہیں چھوڑ دیا، بلکہ ساری کائنات کا نظم و تدبیر وہ اس طرح کر رہا ہے کہ کبھی کسی کا آپس میں تصادم نہیں ہوا، ہرچیز اس کے حکم پر اپنے اپنے کام میں مصروف ہے۔

[3]مشرکین و کفار، جو اصل مخاطب تھے، ان کا عقیدہ تھا کہ یہ بت، جن کی وہ عبادت کرتے تھے اللہ کے ہاں ان کی شفاعت کریں گے اور ان کو اللہ کے عذاب سے چھڑوائیں گے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا وہاں اللہ کی اجازت کے بغیر کسی کو سفارش کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اور یہ اجازت بھی صرف انہی لوگوں کے لئے ہوگی جن کے لئے اللہ تعالٰی پسند فرمائے گا۔ «وَلَا يَشۡفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ٱرۡتَضَىٰ» [الأنبياء: 28]. «لَا تُغۡنِي شَفَٰعَتُهُمۡ شَيۡ‍ًٔا إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ أَن يَأۡذَنَ ٱللَّهُ لِمَن يَشَآءُ وَيَرۡضَىٰٓ» [النجم: 26].

[4]یعنی ایسا اللہ، جو کائنات کا خالق بھی ہے اس کا مدبر و منتطم بھی علاوہ ازیں تمام اختیارات کا بھی کلی طرح پر وہی مالک ہے، وہی اس لائق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔


تمہارا پروردگار تو خدا ہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش (تخت شاہی) پر قائم ہوا وہی ہر ایک کا انتظام کرتا ہے۔ کوئی (اس کے پاس) اس کا اذن حاصل کیے بغیر کسی کی سفارش نہیں کرسکتا، یہی خدا تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو۔ بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے

— Fatah Muhammad Jalandhari


یقیناً تمہارا رب وہ اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمائی چھ دنوں میں پھر وہ عرش پر متمکن ہوگیا (اور) وہ تدبیر کرتا ہے ہر معاملہ کی نہیں ہے کوئی بھی شفاعت کرنے والا مگر اس کی اجازت کے بعد وہ ہے اللہ تمہارا رب پس تم اسی کی بندگی کرو۔ تو کیا تم نصیحت اخذ نہیں کرتے

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


تحقیق تمہارا رب اللہ ہے جس نے بنائے آسمان اور زمین چھ دن میں [1] پھر قائم ہوا عرش پر [2] تدبیر کرتا ہے کام کی [3] کوئی سفارش نہیں کر سکتا مگر اس کی اجازت کے بعد [4] وہ اللہ ہے رب تمہارا سو اسکی بندگی کرو کیا تم دھیان نہیں کرتے [5]

— Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

[1]چھ دن میں زمین و آسمان کی پیدائش:یعنی اتنے وقت میں جو چھ دن کے برابر تھا اور ایک دن ابن عباس کی تفسیر کے موافق ایک ہزار سال کا لیا جائے گا۔ گویا چھ ہزار سال میں زمین و آسمان وغیرہ تیار ہوئے ۔ بلاشبہ حق تعالیٰ قادر تھا کہ آن واحد میں ساری مخلوق کو پیدا کر دیتا۔ لیکن حکمت اسی کو مقتضی ہوئی کی تدریجًا پیدا کیا جائے۔ شاید بندوں کو سبق دینا ہو کہ قدرت کے باوجود ہر کام سوچ سمجھ کر تأنی اور متانت سےکیا کریں۔ نیز تدریجی تخلیق کی بہ نسبت دفعۃً پیدا کرنے کے اس بات کا زیادہ اظہار ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ فاعل بالاضطرار نہیں ۔ بلکہ ہر چیز کا وجود بالکلیہ اس کی مشیت و اختیار سے وابستہ ہے جب چاہے جس طرح چاہے پیدا کرے۔

[2]سورہ اعراف کے ساتویں رکوع کے شروع میں اسی طرح کی آیت گذر چکی۔ اس کا فائدہ ملاحظہ کیا جائے۔

[3]یعنی مخلوق کے تمام کاموں کی تدبیر و انتظام اسی کے ہاتھ میں ہے۔

[4]یعنی شریک اور حصہ دار تو اس کی خدائی میں کیا ہوتا ، سفارش کے لئے بھی اس کی اجازت کے بدون لب نہیں ہلا سکتا۔

[5]یعنی دھیان کرو کہ ایسے رب کے سوا جس کی صفات اوپر بیان ہوئیں دوسرا کون ہے جس کی بندگی اور پرستش کی جا سکے۔ پھر تم کو کیسے جرأت ہوتی ہے کہ اس خالق و مالک شہنشاہ مطلق اور حکیم برحق کے پیغاموں اور پیغامبروں کو محض اوہام و ظنون کی بنا پر جھٹلانے لگو۔


Haqeeqat yeh hai ke tumahra Rubb wahi khuda hai jisne aasmano aur zameen ko chey (six) dino mein paida kiya, phir takht e hukumat par jalwa-gar hua aur qayinat ka intezaam chala raha hai. Koi shafaat (sifarish) karne wala nahin illa yeh ke iski ijazat ke baad shafaat karey. Yahi Allah tumhara Rubb hai lihaza tum usi ki ibadat karo. Phir kya tum hosh mein na aaogey

— Abul Ala Maududi(Roman Urdu)


بے شک تمھارا رب اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں (ادوار) میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر قائم ہوا وہی معاملات کا انتظام کرتا ہے اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کرنے والا نہیں  یہی اللہ تمھارا رب ہے پس تم اسی کی عبادت کرو، کیا تم سوچتے نہیں

— Maulana Wahiduddin Khan

[https://quran.com/10/3]



Surah Yunus begins with an introduction about Allah:

    Allah created the skies and earth  

    Allah created all this in just six days 

    Allah ascended the throne 

    Allah started governing His creation 

    Allah's permission is needed for any intercessor to intercede 

    That is Allah, The Rabb ( Lord - Sustainer )

Therefore, we are well-advised to worship Allah, and it questions why we don't remember / keep in mind these facts. 


Reading in context Q10:3, the following are the first ten ayaat of Surah Yunus (Jonah): 


Jonah (10:1-10)


10:1

الٓر ۚ تِلْكَ ءَايَـٰتُ ٱلْكِتَـٰبِ ٱلْحَكِيمِ ١

Alif, Lām, Rā.[1] These are the verses of the wise[2] Book.

— Saheeh International

[1]See footnote to 2:1.

[2]The adjective 'wise' expresses the qualities of will, purpose, discrimination and precision.

ا ل ر۔ یہ بڑی حکمت بھری کتاب کی آیات ہیں۔

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

10:2

أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَآ إِلَىٰ رَجُلٍۢ مِّنْهُمْ أَنْ أَنذِرِ ٱلنَّاسَ وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِندَ رَبِّهِمْ ۗ قَالَ ٱلْكَـٰفِرُونَ إِنَّ هَـٰذَا لَسَـٰحِرٌۭ مُّبِينٌ ٢

Have the people been amazed that We revealed [revelation] to a man from among them, [saying], "Warn mankind and give good tidings to those who believe that they will have a [firm] precedence of honor[1] with their Lord"? [But] the disbelievers say, "Indeed, this is an obvious magician."

— Saheeh International

[1]- i.e., a sure position due to their righteous deeds.

کیا لوگوں کو بہت تعجب ہوا ہے کہ ہم نے وحی بھیج دی ایک شخص پر انہی میں سے کہ آپ ﷺ لوگوں کو خبردار کردیجیے اور اہل ایمان کو بشارت دے دیجیے کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس بہت اونچا مرتبہ ہے۔ (اس پر) کافروں نے کہا کہ یہ تو ایک کھلا جادوگر ہے۔

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

10:3

إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ ۖ يُدَبِّرُ ٱلْأَمْرَ ۖ مَا مِن شَفِيعٍ إِلَّا مِنۢ بَعْدِ إِذْنِهِۦ ۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمْ فَٱعْبُدُوهُ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ٣

Indeed, your Lord is Allāh, who created the heavens and the earth in six days and then established Himself above the Throne,[1] arranging the matter [of His creation]. There is no intercessor except after His permission. That is Allāh, your Lord, so worship Him. Then will you not remember?

— Saheeh International

[1]- See footnotes to 2:19 and 7:54.

یقیناً تمہارا رب وہ اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمائی چھ دنوں میں پھر وہ عرش پر متمکن ہوگیا (اور) وہ تدبیر کرتا ہے ہر معاملہ کی نہیں ہے کوئی بھی شفاعت کرنے والا مگر اس کی اجازت کے بعد وہ ہے اللہ تمہارا رب پس تم اسی کی بندگی کرو۔ تو کیا تم نصیحت اخذ نہیں کرتے

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

10:4

إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًۭا ۖ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقًّا ۚ إِنَّهُۥ يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ لِيَجْزِىَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ بِٱلْقِسْطِ ۚ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَهُمْ شَرَابٌۭ مِّنْ حَمِيمٍۢ وَعَذَابٌ أَلِيمٌۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْفُرُونَ ٤

To Him is your return all together. [It is] the promise of Allāh [which is] truth. Indeed, He begins the [process of] creation and then repeats it that He may reward those who have believed and done righteous deeds, in justice. But those who disbelieved will have a drink of scalding water and a painful punishment for what they used to deny.

— Saheeh International

تم سب کا لوٹنا اسی کی جانب ہے۔ یہ وعدہ ہے اللہ کا سچاوہی ہے جو خلق کا آغاز کرتا ہے پھر وہی اس کا اعادہ کر دے گا تاکہ وہ ان لوگوں کو جزا دے جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے عمل کیے انصاف کے ساتھ (اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے پینے کے لیے ہوگا کھولتا ہوا پانی اور دردناک عذاب اس کفر کی پاداش میں جو وہ کرتے رہے

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

10:5

هُوَ ٱلَّذِى جَعَلَ ٱلشَّمْسَ ضِيَآءًۭ وَٱلْقَمَرَ نُورًۭا وَقَدَّرَهُۥ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا۟ عَدَدَ ٱلسِّنِينَ وَٱلْحِسَابَ ۚ مَا خَلَقَ ٱللَّهُ ذَٰلِكَ إِلَّا بِٱلْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ ٱلْـَٔايَـٰتِ لِقَوْمٍۢ يَعْلَمُونَ ٥

It is He who made the sun a shining light and the moon a derived light and determined for it phases - that you may know the number of years and account [of time]. Allāh has not created this except in truth. He details the signs for a people who know.

— Saheeh International

وہی ہے جس نے بنایا سورج کو چمکدار اور چاند کو نور اور اس نے اس (چاند) کی منزلیں مقرر کردیں تاکہ تمہیں معلوم ہو گنتی برسوں کی اور تم (معاملات زندگی میں) حساب کرسکو اللہ نے یہ سب کچھ پیدا نہیں کیا مگر حق کے ساتھ اور وہ تفصیل بیان کرتا ہے اپنی آیات کی ان لوگوں کے لیے جو علم حاصل کرنا چاہیں

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

10:6

إِنَّ فِى ٱخْتِلَـٰفِ ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ وَمَا خَلَقَ ٱللَّهُ فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ لَـَٔايَـٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يَتَّقُونَ ٦

Indeed, in the alternation of the night and the day and [in] what Allāh has created in the heavens and the earth are signs for a people who fear Allāh.

— Saheeh International

یقیناً رات اور دن کے ادلنے بدلنے میں اور جو کچھ اللہ نے بنایا ہے آسمانوں میں اور زمین میں یقیناً نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جن کے اندر تقویٰ ہے۔

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

10:7

إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا وَرَضُوا۟ بِٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَٱطْمَأَنُّوا۟ بِهَا وَٱلَّذِينَ هُمْ عَنْ ءَايَـٰتِنَا غَـٰفِلُونَ ٧

Indeed, those who do not expect the meeting with Us and are satisfied with the life of this world and feel secure therein and those who are heedless of Our signs -

— Saheeh International

بیشک وہ لوگ جو ہم سے ملاقات کے امیدوار نہیں ہیں اور وہ دنیا کی زندگی پر ہی راضی اور اسی پر مطمئن ہیں اور جو ہماری آیات سے غافل ہیں

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

10:8

أُو۟لَـٰٓئِكَ مَأْوَىٰهُمُ ٱلنَّارُ بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ ٨

For those their refuge will be the Fire because of what they used to earn.

— Saheeh International

یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ آگ ہے اپنی اس کمائی کے سبب جو وہ کر رہے ہیں۔

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

10:9

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ يَهْدِيهِمْ رَبُّهُم بِإِيمَـٰنِهِمْ ۖ تَجْرِى مِن تَحْتِهِمُ ٱلْأَنْهَـٰرُ فِى جَنَّـٰتِ ٱلنَّعِيمِ ٩

Indeed, those who have believed and done righteous deeds - their Lord will guide them because of their faith. Beneath them rivers will flow in the Gardens of Pleasure.

— Saheeh International

یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ان کا رب ان کے ایمان کے باعث ان کو پہنچا دے گا نعمتوں والے باغات میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

10:10

دَعْوَىٰهُمْ فِيهَا سُبْحَـٰنَكَ ٱللَّهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَـٰمٌۭ ۚ وَءَاخِرُ دَعْوَىٰهُمْ أَنِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ١٠

Their call therein will be, "Exalted are You, O Allāh," and their greeting therein will be, "Peace." And the last of their call will be, "Praise to Allāh, Lord of the worlds!"

— Saheeh International

اس میں ان کا ترانہ ہوگا : اے اللہ تو پاک ہے  اور اس میں ان کی (آپس کی) دعا سلام ہوگی۔ اور ان کی دعا اور مناجات کا اختتام (ہمیشہ ان کلمات پر) ہوگا کہ کل حمد اور کل تعریف اس اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

[https://quran.com/10/1-10]

...




...

Further reading:

Time: Before and Beyond (10:3)

Gamma Rays, Visible Light & The Electromagnetic Spectrum (10:5)

Acknowledging the Perfection of our Lord (10:10) 

Salaam, The Significance of the Spoken Word! (10:10) 

No ilah but Allah لا إله إلا الله (a brief comparison between two corrupt nations: Pharaoh of Ancient Egypt  vs those to whom Jonah was sent)

Anger, Anguish & The Repentance (about Jonah & his mission)


learnings from other surahs: 

The Kingdom & The Throne 

Creation of Space & Time, and The Deen 

Ancient (الۡعَتِيۡقِ) 

Days, the concept of 

Creation Narrative & the Natural World 

Secular Science vs Creation Faith 






Comments

Popular posts from this blog

Do not give short measure and weight (11:84, 87)

The Warning (11:26)

Shuaib preached: worship Allah (7:85)