The One Who produced you from the earth and made you live upon it (11:61, 62)

...

Hud (11:61)


۞ وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَـٰلِحًۭا ۚ قَالَ يَـٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُۥ ۖ هُوَ أَنشَأَكُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ وَٱسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا فَٱسْتَغْفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُوٓا۟ إِلَيْهِ ۚ إِنَّ رَبِّى قَرِيبٌۭ مُّجِيبٌۭ ٦١


And to the people of Thamûd We sent their brother Ṣâliḥ. He said, “O my people! Worship Allah. You have no god other than Him. He ˹is the One Who˺ produced you from the earth and settled you on it. So seek His forgiveness and turn to Him in repentance. Surely my Lord is Ever Near, All-Responsive ˹to prayers˺.”

— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran


And to (the people of) Thamūd (We sent) their brother, SāliH. He said, “O my people, worship Allah. You have no god other than Him. He has created you from earth and made you settle therein. So, seek His forgiveness, then turn to Him in repentance. Surely, my Lord is near, responsive to the prayers.”

— T. Usmani


And to Thamūd [We sent] their brother Ṣāliḥ. He said, "O my people, worship Allāh; you have no deity other than Him. He has produced you from the earth and settled you in it, so ask forgiveness of Him and then repent to Him. Indeed, my Lord is near and responsive."

— Saheeh International


To the Thamud, We sent their brother, Salih. He said, ‘My people, worship God. You have no god other than Him. It was He who brought you into being from the earth and made you inhabit it, so ask forgiveness from Him, and turn back to Him: my Lord is near, and ready to answer.’

— M.A.S. Abdel Haleem


 61. And to Thamûd (people We sent) their brother Sâlih. He said: "O my people! Worship Allâh: you have no other ilâh (god) but Him. He brought you forth from the earth and settled you therein, then ask forgiveness of Him and turn to Him in repentance. Certainly, my Lord is Near (to all by His Knowledge), Responsive."

— Al-Hilali & Khan


And to Thamud We sent their brother Sali'h.1 He said: 'My people! Serve Allah; you have no god other than Him. He brought you into being out of the earth, and has made you dwell in it.2 So ask Him to forgive you, and do turn towards Him in repentance.3 Indeed My Lord is near, responsive to prayers .4

— A. Maududi (Tafhim commentary)

[1]This is the proof of the claim: “You have no other Deity than Allah” .The argument is based on the fact which the mushriks themselves acknowledged that it is Allah Who is their Creator. Therefore Prophet Salih (peace be upon him) argued like this: You yourselves acknowledge that it is Allah Who has created your wonderful human body out of the lifeless particles of the earth and that it is Allah Who has made the earth a suitable place for you to live. How can then there be any Deity other than Allah Who may be worthy of Godhead, service and worship?

[2]That is, so ask His forgiveness for the sin you have been committing by worshiping others.

[3]Please keep in view (E.Ns 57-62 of Surah Al-Aaraf).

[4]In this concise sentence, the Quran has refuted a grave misunderstanding of the mushriks, which has in every age misled people into wrong creeds. They presumed that Allah lived far away from them and, therefore, was unapproachable like their own rulers on the earth. As the only way of approach to them was an intercessor who alone could receive and present their requests and applications to their rulers, and convey their answers to them, they presumed that there should be some intercessor to help approach Allah and bring to them the answers to their prayers. Obviously this is a false presumption, which has been endorsed and encouraged by clever people that Allah is out of the reach of common people and it is not possible for them to reach Him and present their prayers and get their answers. So they should search for such sacred beings as may have an approach to Him. Accordingly, they tried to secure the services of those who were well versed in the art of conveying the requests with the necessary presents and gifts to the Highest Authority. This misunderstanding created hosts of intercessors, and the establishment of the system of priesthood, which has so incapacitated the followers of mushrik creeds of ignorance that they cannot perform by themselves any religious ceremony from birth to death.


And unto (the tribe of) Thamud (We sent) their brother Salih. He said: O my people! Serve Allah, Ye have no other Allah save Him. He brought you forth from the earth and hath made you husband it. So ask forgiveness of Him and turn unto Him repentant. Lo! my Lord is Nigh, Responsive.

— M. Pickthall


To the Thamud People (We sent) Salih, one of their own brethren. He said: "O my people! Worship Allah: ye have no other god but Him. It is He Who hath produced you from the earth and settled you therein: then ask forgiveness of Him, and turn to Him (in repentance): for my Lord is (always) near, ready to answer."

— A. Yusuf Ali


اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ اس نے کہا اے میری قوم کے لوگ ، اللہ کی بندگی کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ، وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے اور یہاں تم کو بسایا ہے۔ لہذا تم اس سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ، یقینا میرا رب قریب ہے اور وہ دعاؤں کا جواب دینے والا ہے

— Fe Zilal al-Qur'an


اور ثمود کی طرف ہم نے اُن کے بھائی صالحؑ کو بھیجا۔1 اُس نے کہا”اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو، اُس کے سوا تمہارا کوئی خُدا نہیں ہے۔ وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور یہاں تم کو بسایا ہے۔2 لہٰذا تم اُس سے معافی چاہو3 اور اُس کی طرف پلٹ آوٴ، یقیناً میرا ربّ قریب ہے اور وہ دعاؤں کا جواب دینے والا ہے۔“4

— Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

[1]یہ مشرکین کی ایک بہت بڑی غلط فہمی کا رد ہے جو بالعموم ان  سب میں پائی جاتی ہے  اور اُن اہم اسباب  میں سے ایک ہے جنہوں نے ہر زمانہ میں انسان کو شرک میں مبتلا کیا ہے۔ یہ لوگ اللہ  کو اپنے راجوں مہاراجوں اور بادشاہوں پر قیاس کرتے ہیں جو رعیت  دور اپنے محلوں میں داد عیش دیا کرتے ہیں ، جن  کے دربار تک عام رعایا میں سے کسی کی رسائی نہیں ہو سکتی، جن کے حضور میں کوئی  درخواست پہنچانی ہو تو مقربین بارگاہ میں سے کسی کا دامن تھامنا پڑتا ہے اور پھر  اگر خوش قسمتی سے کسی کی درخواست ان کے آستانہ ٔ بلند پر پہنچ  بھی جاتی ہے تو ان کا پندارِ خدائی یہ گوارا  نہیں کرتا کہ خود اس کو جواب دیں، بلکہ جواب دینے کا کام مقربین ہی میں سے کسی کے  سپرد کیا جاتا ہے۔ اس غلط گمان کی وجہ سے یہ لوگ ایسا سمجھتے ہیں اور ہوشیار لوگوں  نے ان کو ایسا سمجھانے کی کوشش بھی کی ہے کہ خداوند عالم کا آستانۂ قدس عام  انسانوں کی دست رس سے بہت ہی دور ہے۔ اس کے دربار تک بھلا کسی عام کی پہنچ کیسے ہو  سکتی ہے۔ وہاں تک دعاؤں کا پہنچنا اور پھر ان کا جواب ملنا  تو کسی طرح ممکن ہی نہیں ہو سکتا  جب تک کہ پاک روحوں کا وسیلہ نہ ڈھونڈا جائے  اور اُن مذہبی منصب داروں کی خدمات نہ حاصل کی جائیں جو اوپر تک نذریں، نیازیں اور  عرضیاں پہنچانے کے ڈھب جانتے ہیں۔ یہی وہ غلط فہمی ہے جس نے بندے اور خدا کے  درمیان بہت سے چھوٹے بڑے معبودوں  اور  سفارشیوں کا ایم جم غفیر کھڑا کر دیا ہے اور س کے ساتھ مہنت گری(Priesthood  ) کا وہ نظام پید کیا ہے  جس کے توسط کے بغیر جاہلی مذاہب کے پیرو پیدائش  سے لے کر موت تک اپنی کوئی مذہبی رسم بھی انجام نہیں دے سکتے تھے۔

        حضرت صالح ؑ جاہلیت کے اس  پورے طلسم کو صرف دو لفظوں سے توڑ پھینکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ اللہ قریب ہے۔ دوسرے یہ  ہے کہ وہ مجیب ہے ۔ یعنی تمہارا یہ خیال بھی غلط ہے کہ وہ تم سے دور ہے ، اور یہ  بھی غلط ہے ہے کہ تم براہِ رست اس کی پکار کر اپنی دعاؤں کا جواب حاصل نہیں کر  سکتے۔ وہ اگرچہ بہت بالا و برتر ہے مگر اسکے باوجود وہ تم سے بہت قریب ہے ۔ تم میں  سے ایک ایک شخص اپنے  پاس ہی ا س کو پا  سکتا ہے ، ا س سے سرگوشی کر سکتا ہے، خلوت   اور جلوت دونوں میں علانیہ بھی اور بصیغۂ راز بھی اپنی عرضیاں خود اس کے  حضور پیش کرسکتا ہے۔ اور پھر وہ براہِ راست اپنے ہر بندے کی دعاؤں کا جواب خود  دیتا ہے۔ پس جب سلطان ِ کائنات کا دربارِ عام ہر وقت ہر شخص کے لیے کھلا ہے اور ہر  شخص کے قریب ہی موجود ہے  تو یہ تم کس  حماقت  میں پڑے ہو کہ اس کے لیے واسطے اور  وسیلے ڈھونڈتے پھرتے ہو۔ (نیز ملاحظہ ہو سورۂ بقرہ کا حاشیہ نمبر 188)۔

[2]یعنی اب تک جو تم دوسروں کی بندگی و پرستش کرتے رہے ہو اس جرم کی اپنے رب سے  معافی مانگو۔

[3]یہ دلیل ہے اس دعوے کی جو پہلے فقرے میں کیا گیا تھا کہ اللہ کےسوا تمہارا  کوئی خدا  اور کوئی حقیقی معبود  نہیں ہے۔ مشرکین خود بھی اس بات کو تسلیم کرتے  تھے کہ ان کا خالق اللہ ہی ہے۔ اسی مسلمہ حقیقت پر بنائے استدلال قائم کر کے حضرت  صالح ان کو سمجھاتے ہیں کہ جب وہ  اللہ ہی  ہے جس نے زمین کے بے جان مادّوں کی ترکیب سے تم کو یہ انسانی وجود بخشا، اور وہ  بھی اللہ ہی ہے جس نے زمین میں تم کو آباد کیا، تو پھر اللہ کے سوا خدائی اور کس  کی ہو سکتی ہے اور کسی دوسرے کو یہ حق کیسے حاصل ہو سکتا ہے کہ تم اس کی بندگی و  پرستش کرو۔

[4]سورۂ اعراف رکوع 1۰ کے حواشی پیشِ نظر رہیں۔


اور قوم ﺛمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا[1] ، اس نے کہا کہ اے میری قوم تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں[2]، اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا ہے[3] اور اسی نے اس زمین میں تمہیں بسایا ہے[4]، پس تم اس سے معافی طلب کرو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ بیشک میرا رب قریب اور دعاؤں کا قبول کرنے واﻻ ہے.

— Maulana Muhammad Junagarhi

[1]وَ اِلَیٰ ثَمُوْدَ عطف ہے ما قبل پر۔ یعنی وَ اَرْسَلنَا اِلَیٰ ثُمُوْدَ ہم نے ثمود کی طرف بھیجا۔ یہ قوم تبوک اور مدینہ کے درمیان مدائن (حجر) میں رہائش پذیر تھی اور یہ قوم عاد کے بعد ہوئی۔ حضرت صالح (عليه السلام) کو یہاں بھی ثمود کا بھائی کہا۔ جس سے مراد انہی کے خاندان اور قبیلے کا ایک فرد ہے۔

[2]حضرت صالح (عليه السلام) نے بھی سب سے پہلے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی، جس طرح کہ انبیاء کا طریق رہا ہے۔

[3]یعنی ابتدا میں تمہیں زمین سے پیدا کیا اس طرح کہ تمہارے باپ آدم (عليه السلام) کی تخلیق مٹی سے ہوئی اور تمام انسان صلب آدم (عليه السلام) سے پیدا ہوئے یوں گویا تمام انسانوں کی پیدائش زمین سے ہوئی۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم جو کچھ کھاتے ہو، سب زمین ہی سے پیدا ہوتا ہے اور اسی خوراک سے وہ نطفہ بنتا ہے۔ جو رحم مادر میں جا کر وجود انسانی کا باعث ہوتا ہے۔

[4]یعنی تمہارے اندر زمین کو بسانے اور آباد کرنے کی استعداد اور صلاحیت پیدا کی، جس سے تم رہائش کے لئے مکان تعمیر کرتے، خوراک کے لئے کاشت کاری کرتے اور دیگر ضروریات زندگی مہیا کرنے کے لئے صنعت و حرفت سے کام لیتے ہو۔


اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (بھیجا) تو انہوں نے کہا کہ قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اسی نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور اس میں آباد کیا تو اس سے مغفرت مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔ بےشک میرا پروردگار نزدیک (بھی ہے اور دعا کا) قبول کرنے والا (بھی) ہے

— Fatah Muhammad Jalandhari


اور ثمود کی طرف (ہم نے بھیجا) ان کے بھائی صالح کو آپ نے فرمایا : اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی بندگی کرو تمہارا کوئی معبود اس کے سوا نہیں ہے اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور اس میں تم کو آباد کیا تو اس سے اپنے گناہ بخشواؤ پھر اسی کی جناب میں رجوع کرو یقیناً میرا رب قریب ہے اور دعا کا قبول کرنے والا ہے

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


اور ثمود کی طرف بھیجا ان کا بھائی صالح [1] بولا اے قوم بندگی کرو اللہ کی کوئی حاکم نہیں تمہارا اس کے سوا اسی نے بنایا تم کو زمین سے [2] اور بسایا تم کو اس میں سو گناہ بخشواؤ اس سے اور رجوع کرو اسکی طرف تحقیق میرا رب نزدیک ہے قبول کرنے والا [3]

— Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

[1]حضرت صالح علیہ السلام کا اپنی قوم سے خطاب:یعنی اول آدمؑ کو مٹی سے پیدا کیا۔ پھر زمین سےغذائیں پیدا کیں جن سے نطفہ وغیرہ بنتا ہے جو مادہ ہے آدمی کی پیدائش کا۔

[2]یعنی پیدا کر کے باقی رکھا۔ بقاء کا سامان کیا۔ زمین کے آباد کرنے کی ترکیبیں بتلائیں تدابیر الہام فرمائیں، جب وہ ایسا منعم و محسن ہے تو چاہئے آدمی اسی کی طرف ایمان و طاعت کے ساتھ رجوع کرے اور کفر و شرک وغیرہ جو گناہ کر چکا ہے ان کی معافی چاہے ، وہ ہم سے بالکل نزدیک ہے، ہر بات خود سنتا ہے اور جو توبہ و استغفار صدق دل سے کیا جائے اسے سن کر قبول کرتا ہے۔

[3]ان کا قصہ اعراف میں گذر چکا۔


اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو بھیجا اس نے کہا، اے میری قوم، اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمھارا ا کوئی معبود نہیں  اسی نے تم کو زمین سے بنایا، اور اس میں تم کو آباد کیا پس معافی چاہو، پھر اس کی طرف رجوع کرو بے شک میرا رب قریب ہے، قبول کرنے والا ہے

— Maulana Wahiduddin Khan


Aur Samood ki taraf humne unke bhai Saleh ko bheja. Usne kaha, “aey meri qaum ke logon, Allah ki bandagi karo, uske siwa tumhara koi khuda nahin hai. Wahi hai jisne tumko zameen se paida kiya hai aur yahan tumko basaya hai. Lihaza tum ussey maafi chaho aur uski taraf palat aao. Yaqeenan mera Rubb qareeb hai aur woh duaon ka jawab dene wala hai”

— Abul Ala Maududi(Roman Urdu)

[https://quran.com/11/61]

Allah is the One Who has produced us from the earth, and given us life, a lifetime, to live upon the earth. 

There is no other deity, no other god. 

Allah is the only God, the only Deity. 

Allah alone deserves to be worshipped. 

This ayat emphasises on the production (أَنشَأَكُم) of humans from earth, and the life (ٱسْتَعْمَرَكُمْ) given upon it. 

They were also presented with a clear evidence: a pregnant she-camel produced from the mountain, with clear instructions to not to harm her. Yet, they did not heed to the preaching or the warning. Eventually, they met the terrible consequence of their defiance to their Lord. 

Reading the narrative in Surah Hud: 


Hud (11:61-68)


11:61

۞ وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَـٰلِحًۭا ۚ قَالَ يَـٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُۥ ۖ هُوَ أَنشَأَكُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ وَٱسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا فَٱسْتَغْفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُوٓا۟ إِلَيْهِ ۚ إِنَّ رَبِّى قَرِيبٌۭ مُّجِيبٌۭ ٦١

And to Thamūd [We sent] their brother Ṣāliḥ. He said, "O my people, worship Allāh; you have no deity other than Him. He has produced you from the earth and settled you in it, so ask forgiveness of Him and then repent to Him. Indeed, my Lord is near and responsive."

— Saheeh International

اور ثمود کی طرف (ہم نے بھیجا) ان کے بھائی صالح کو آپ نے فرمایا : اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی بندگی کرو تمہارا کوئی معبود اس کے سوا نہیں ہے اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور اس میں تم کو آباد کیا تو اس سے اپنے گناہ بخشواؤ پھر اسی کی جناب میں رجوع کرو یقیناً میرا رب قریب ہے اور دعا کا قبول کرنے والا ہے

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

11:62

قَالُوا۟ يَـٰصَـٰلِحُ قَدْ كُنتَ فِينَا مَرْجُوًّۭا قَبْلَ هَـٰذَآ ۖ أَتَنْهَىٰنَآ أَن نَّعْبُدَ مَا يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَا وَإِنَّنَا لَفِى شَكٍّۢ مِّمَّا تَدْعُونَآ إِلَيْهِ مُرِيبٍۢ ٦٢

They said, "O Ṣāliḥ, you were among us a man of promise before this. Do you forbid us to worship what our fathers worshipped? And indeed we are, about that to which you invite us, in disquieting doubt."

— Saheeh International

انہوں نے کہ اے صالح ! آپ سے تو ہماری بڑی امیدیں وابستہ تھیں اس سے پہلے کیا آپ ہمیں روک رہے ہیں ان کو پوجنے سے جن کو ہمارے آباء و اَجداد پوجتے تھے ؟ اور یقیناً جس چیز کی طرف آپ ہمیں بلا رہے ہیں اس کے بارے میں ہمیں بہت شکوک و شبہات ہیں

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

11:63

قَالَ يَـٰقَوْمِ أَرَءَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍۢ مِّن رَّبِّى وَءَاتَىٰنِى مِنْهُ رَحْمَةًۭ فَمَن يَنصُرُنِى مِنَ ٱللَّهِ إِنْ عَصَيْتُهُۥ ۖ فَمَا تَزِيدُونَنِى غَيْرَ تَخْسِيرٍۢ ٦٣

He said, "O my people, have you considered: if I should be upon clear evidence from my Lord and He has given me mercy from Himself, who would protect me from Allāh if I disobeyed Him? So you would not increase me except in loss.

— Saheeh International

صالح نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! ذرا سوچوتو سہی اگر میں (پہلے سے ہی) اپنے رب کی طرف سے بینہّ پر تھا اور اللہ نے مجھے اپنے پاس سے خاص رحمت بھی عطا کردی تو اب اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو مجھے اللہ (کی پکڑ) سے کون بچائے گا ؟ تم تو اضافہ نہیں کرو گے میرے لیے مگر خسارہ ہی میں

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

11:64

وَيَـٰقَوْمِ هَـٰذِهِۦ نَاقَةُ ٱللَّهِ لَكُمْ ءَايَةًۭ فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِىٓ أَرْضِ ٱللَّهِ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٍۢ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌۭ قَرِيبٌۭ ٦٤

And O my people, this is the she-camel of Allāh - [she is] to you a sign. So let her feed upon Allāh's earth and do not touch her with harm, or you will be taken by an impending punishment."

— Saheeh International

اور (دیکھو) میری قوم کے لوگو ! یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی ہے اسے چھوڑے رکھو کہ یہ چرتی پھرے اللہ کی زمین میں اور (دیکھنا) کسی برے ارادے سے اسے ہاتھ نہ لگانا ورنہ تمہیں آپکڑے گا ایک قریبی عذاب

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

11:65

فَعَقَرُوهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوا۟ فِى دَارِكُمْ ثَلَـٰثَةَ أَيَّامٍۢ ۖ ذَٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍۢ ٦٥

But they hamstrung her, so he said, "Enjoy yourselves in your homes for three days. That is a promise not to be denied [i.e., unfailing]."

— Saheeh International

تو انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں تو صالح نے فرمایا : اب تم اپنے گھروں میں تین دن تک رہ بس لو۔ یہ وہ وعدہ ہے جو جھوٹا ثابت نہیں ہوگا

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

11:66

فَلَمَّا جَآءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا صَـٰلِحًۭا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ بِرَحْمَةٍۢ مِّنَّا وَمِنْ خِزْىِ يَوْمِئِذٍ ۗ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ ٱلْقَوِىُّ ٱلْعَزِيزُ ٦٦

So when Our command came, We saved Ṣāliḥ and those who believed with him, by mercy from Us, and [saved them] from the disgrace of that day.[1] Indeed, it is your Lord who is the Powerful, the Exalted in Might.

— Saheeh International

[1]- The day of Thamūd's destruction.

تو جب ہمارا فیصلہ آگیا تو ہم نے نجات دی صالح کو اور ان کو جو آپ کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنی رحمت سے اور اس دن کی رسوائی سے (انہیں بچا لیا)۔ یقیناً آپ کا پروردگار بہت طاقتور زبردست ہے

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

11:67

وَأَخَذَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ٱلصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوا۟ فِى دِيَـٰرِهِمْ جَـٰثِمِينَ ٦٧

And the shriek[1] seized those who had wronged, and they became within their homes [corpses] fallen prone

— Saheeh International

[1]- A piercing cry or blast from the sky.

اور ان ظالموں کو پکڑ لیا ایک چنگھاڑ نے تو وہ اپنے گھروں کے اندر اوندھے پڑے رہ گئے

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

11:68

كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا۟ فِيهَآ ۗ أَلَآ إِنَّ ثَمُودَا۟ كَفَرُوا۟ رَبَّهُمْ ۗ أَلَا بُعْدًۭا لِّثَمُودَ ٦٨

As if they had never prospered therein. Unquestionably, Thamūd denied their Lord; then, away with Thamūd.

— Saheeh International

گویا وہ کبھی ان میں بسے ہی نہیں تھے آگاہ ہوجاؤ یقیناً ثمود نے اپنے رب کا کفر کیا۔ آگاہ ہوجاؤ پھٹکار ہے ثمود پر

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

[https://quran.com/11/61-68]

...

Related Posts 

The Mighty Ancients! 

Life Extension 

AlUla 

Nine Groups corrupting the Earth 

The Creature that will Speak with Humans 

What they did to the She-Camel 

Pregnancies mentioned in The Quran 

Mountains and Camels 

Water scarcity in ancient times 

Surah al-A'raf, ... the narratives 

Aged Clay 


Comments

Popular posts from this blog

Do not give short measure and weight (11:84, 87)

Shuaib preached: worship Allah (7:85)

The Purpose of Ibaadat