the worship of imaginary intercessors (10:18)
...
Jonah (10:18)
وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَـٰٓؤُلَآءِ شُفَعَـٰٓؤُنَا عِندَ ٱللَّهِ ۚ قُلْ أَتُنَبِّـُٔونَ ٱللَّهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَلَا فِى ٱلْأَرْضِ ۚ سُبْحَـٰنَهُۥ وَتَعَـٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ ١٨
They worship besides Allah others who can neither harm nor benefit them, and say, “These are our intercessors with Allah.” Ask ˹them, O Prophet˺, “Are you informing Allah of something He does not know in the heavens or the earth? Glorified and Exalted is He above what they associate ˹with Him˺!”
— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran
Beside Allah, they worship those who can neither harm nor benefit them, and they say, “These are our intercessors with Allah.” Say, “Are you informing Allah of what He does not know as existing in the heavens or on the earth?” Pure is He, and far higher than what they associate with Him.
— T. Usmani
And they worship other than Allāh that which neither harms them nor benefits them, and they say, "These are our intercessors with Allāh." Say, "Do you inform Allāh of something He does not know in the heavens or on the earth?" Exalted is He and high above what they associate with Him.
— Saheeh International
They worship alongside God things that can neither harm nor benefit them, and say, ‘These are our intercessors with God.’ Say, ‘Do you think you can tell God about something He knows not to exist in the heavens or earth? Glory be to Him! He is far above the partner-gods they associate with Him!
— M.A.S. Abdel Haleem
18. And they worship besides Allâh things that harm them not, nor profit them, and they say: "These are our intercessors with Allâh." Say: "Do you inform Allâh of that which He knows not in the heavens and on the earth?" Glorified and Exalted is He above all that which they associate as partners (with Him)!
— Al-Hilali & Khan
They worship, beside Allah, those who can neither harm nor profit them, saying; 'These are our intercessors with Allah.' Tell them (O Muhammad): 'Do you inform Allah of something regarding whose existence in the heavens or on the earth He has no knowledge?1 Holy is He and He is exalted far above what they associate with Him in His divinity'.
— A. Maududi (Tafhim commentary)
[1]This is a fine way of saying that no such intercessors exist as can plead their cases with Allah. For if something is not in the knowledge of Allah, it implies that it does not exist at all, for everything that exists anywhere in the heavens and the earth is in His knowledge.
They worship beside Allah that which neither hurteth them nor profiteth them, and they say: These are our intercessors with Allah. Say: Would ye inform Allah of (something) that He knoweth not in the heavens or in the earth? Praised be He and High Exalted above all that ye associate (with Him)!
— M. Pickthall
They serve, besides Allah, things that hurt them not nor profit them, and they say: "These are our intercessors with Allah." Say: "Do ye indeed inform Allah of something He knows not, in the heavens or on earth?- Glory to Him! and far is He above the partners they ascribe (to Him)!"
— A. Yusuf Ali
'' یہ لوگ اللہ کے سوا ان کی پرستش کر رہے ہیں جو ان کو نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع ، اور کہتے یہ ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ اے نبی ، ان سے کہو '' کیا تم اللہ کو اس بات کی خبر دیتے ہو جسے وہ نہ آسمانوں میں جانتا ہے اور نہ زمین میں ؟ '' پاک ہے وہ اور بالا و برتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں ''۔
— Fe Zilal al-Qur'an
یہ لوگ اللہ کے سوا اُن کی پرستش کر رہے ہیں جو ان کو نا نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع اور کہتے یہ ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ اے محمد ؐ ، ان سے کہو ”کیا تم اللہ کو اُس بات کی خبر دیتے ہو جسے نہ وہ آسمانوں میں جانتا ہے نہ زمین میں؟1“ پاک ہے وہ اور بالا وبرتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں
— Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi
[1]کسی چیز کا اللہ کے علم میں نہ ہونا یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ سرے سے موجود ہی نہیں ، اس لیے کہ سب کچھ جو موجود ہے اللہ کے علم میں ہے۔ پس سفارشیوں کے معدوم ہونے کے لیے یہ ایک نہایت لطیف انداز بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ تو جانتا نہیں کہ زمین یا آسمان میں کوئی اس کے حضور تمہاری سفارش کرنے والا ہے ، پھر یہ تم کن سفارشیوں کی اس کو خبر دے رہے ہو؟
اور یہ لوگ اللہ کے سوا [1] ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو ضرر پہنچا سکیں [2]اور نہ ان کو نفع پہنچا سکیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں[3]۔ آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جو اللہ تعالیٰ کو معلوم نہیں، نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں[4]، وه پاک اور برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے .[5]
— Maulana Muhammad Junagarhi
[1]یعنی اللہ کی عبادت سے تجاوز کرکے نہ کہ اللہ کی عبادت ترک کرکے۔ کیونکہ مشرکین اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ اور غیر اللہ کی بھی۔
[2]جب کہ معبود کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے اطاعت گزاروں کو بدلہ اور اپنے نافرمانوں کو سزا دینے پر قادر ہے۔
[3]یعنی ان کی سفارش سے اللہ ہماری ضرورتیں پوری کر دیتا ہے ہماری بگڑی بنا دیتا ہے یا ہمارے دشمن کی بنائی ہوئی بگاڑ دیتا ہے۔ یعنی مشرکین بھی اللہ کے سوا جن کی عبادت کرتے تھے ان کو نفع اور ضرر میں مستقل نہیں سمجھتے تھے بلکہ اپنے اور اللہ کے درمیان واسطہ اور وسیلہ سمجھتے تھے۔
[4]یعنی اللہ کو تو اس بات کا علم نہیں کہ اس کا کوئی شریک بھی ہے یا اس کی بارگاہ میں سفارشی بھی ہونگے، گویا یہ مشرکین اللہ کو خبر دیتے ہیں کہ تجھے خبر نہیں۔ لیکن ہم تجھے بتلاتے ہیں کہ تیرے شریک بھی ہیں اور سفارشی بھی ہیں جو اپنے عقیدت مندوں کی سفارش کریں گے۔
[5]اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ مشرکین کی باتیں بے اصل ہیں۔ اللہ تعالٰی ان تمام باتوں سے پاک اور برتر ہے۔
اور یہ (لوگ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ ہی سکتی ہیں اور نہ کچھ بھلا ہی کر سکتی ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ خدا کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں۔ کہہ دو کہ کیا تم خدا کو ایسی چیز بتاتے ہو جس کا وجود اسے نہ آسمانوں میں معلوم ہوتا ہے اور نہ زمین میں۔ وہ پاک ہے اور (اس کی شان) ان کے شرک کرنے سے بہت بلند ہے
— Fatah Muhammad Jalandhari
اور یہ لوگ پرستش کرتے ہیں اللہ کے سوا یسی چیزوں کی جو نہ انہیں کوئی نقصان پہنچا سکتی ہیں اور نہ نفع دے سکتی ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارے سفارشی ہیں اللہ کے ہاں۔ آپ ﷺ کہیے کہ کیا تم اللہ کو بتانا چاہتے ہو وہ شے جو وہ نہیں جانتا نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں ؟ وہ بہت پاک اور بلند ہے ان چیزوں سے جن کو وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
اور پرستش کرتے ہیں اللہ کےسوا اس چیز کی جو نہ نقصان پہنچا سکے ان کو نہ نفع اور کہتے ہیں یہ تو ہمارے سفارشی ہیں اللہ کے پاس [1] تو کہہ کیا تم اللہ کو بتلاتے ہو جو اسکو معلوم نہیں آسمانوں میں اور نہ زمین میں وہ پاک ہے اور برتر ہے اس سے جسکو شریک کرتے ہیں [2]
— Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)
[1]بتوں کی سفارش کا عقیدہ:وہ معاملہ تو خدا اور پیغمبر کے ساتھ تھا۔ اب ان کی خدا پرستی کا حال سنئے کہ خدا کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جن کے قبضہ قدرت میں نفع و ضرر کچھ بھی نہیں۔ جب پوچھا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ بیشک بڑا خدا تو ایک ہے جس نے آسمان زمین پیدا کئے ، مگر ان اصنام (بتوں) وغیرہ کو خوش رکھنا اس لئے ضروری ہے کہ یہ سفارش کر کے بڑے خدا سے دنیا میں ہمارے اہم کام درست کرا دیں گے اور اگر موت کے بعد دوسری زندگی کا سلسلہ ہوا تو وہاں بھی ہماری سفارش کریں گے باقی چھوٹے موٹے کام جو خود ان کے حدود اختیار میں ہیں ان کا تعلق تو صرف ان ہی سے ہے۔ بناءً علیہ ہم کو ان کی عبادت کرنی چاہئے۔
[2]یعنی بتوں کا شفیع ہونا اور شفیع کا مستحق عبادت ہونا دونوں دعوے غلط اور بے اصل ہیں ۔ اور ظاہر ہے کہ خدا کے علم میں وہ ہی چیز ہو گی جو واقعی ہو۔ لہذا تعلیم الہٰی کے خلاف ان غیر واقعی اور خود تراشیدہ اصول کو حق بجانب ثابت کرنا ، گویا خدا تعالیٰ کو ایسی چیزوں کے واقعی ہونے کی خبر دینا ہے جن کا وقوع آسمان و زمین میں کہیں بھی اسے معلوم نہیں۔ یعنی کہیں ان کا وجود نہیں ، ہوتا تو اس کے علم میں ضرور ہوتا۔ پھر اس سے منع کیوں کرتا۔
Yeh log Allah ke siwa unki parastish kar rahey hain jo inko na nuksaan pahuncha sakte hain na nafaa (faiyda), aur kehte yeh hain ke yeh Allah ke haan hamare sifarishi hain. (Aey Muhammad), insey kaho “kya tum Allah ko us baat ki khabar dete ho jisey woh na aasmano mein jaanta hai na zameen mein?” Paak hai woh aur baala o bartar hai us shirk se jo yeh log karte hain
— Abul Ala Maududi(Roman Urdu)
اور وہ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو ان کو نہ نقصان پہنچاسکیں اور نہ نفع پہنچاسکیں اور وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے یہاں ہمارے سفارشی ہیں کہو، کیا تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جو اس کو آسمانوں اور زمین میں معلوم نہیں وہ پاک اور برتر ہے اس سے جس کو وہ شریک کرتے ہیں
— Maulana Wahiduddin Khan
Religious people, of many world religions, acknowledge a Supreme Deity, yet along with the worship of the Supreme Deity who is above all, they also worship lesser 'imaginary' beings, assuming and hoping that they will plead their case before the Supreme Deity.
They hope in vain.
These beings are not real intercessors. Their intercession is just a figment of the worshippers' imagination.
Allah, the Supreme Deity, is the One and Only Deity, and He is far above the beings they ascribe to Him.
Reading in context:
Jonah (10:15-25)
10:15
وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ءَايَاتُنَا بَيِّنَـٰتٍۢ ۙ قَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا ٱئْتِ بِقُرْءَانٍ غَيْرِ هَـٰذَآ أَوْ بَدِّلْهُ ۚ قُلْ مَا يَكُونُ لِىٓ أَنْ أُبَدِّلَهُۥ مِن تِلْقَآئِ نَفْسِىٓ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَىَّ ۖ إِنِّىٓ أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّى عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍۢ ١٥
And when Our verses are recited to them as clear evidences, those who do not expect the meeting with Us say, "Bring us a Qur’ān other than this or change it." Say, [O Muḥammad], "It is not for me to change it on my own accord. I only follow what is revealed to me. Indeed I fear, if I should disobey my Lord, the punishment of a tremendous Day."
— Saheeh International
اور جب ان کو پڑھ کر سنائی جاتیں ہیں ہماری روشن آیات تو کہتے ہیں وہ لوگ جو ہم سے ملاقات کے امیدوار نہیں ہیں کہ (اے محمد ﷺ اس کے علاوہ آپ ﷺ کوئی اور قرآن پیش کریں یا اس میں کوئی ترمیم کریں۔ (اے نبی ﷺ !) کہہ دیجیے کہ میرے لیے ہرگز یہ ممکن نہیں کہ میں اس میں اپنی طرف سے کوئی تبدیلی کرلوں میں تو پیروی کرتا ہوں اسی کی جو میری طرف وحی کیا جا رہا ہے۔ میں ڈرتا ہوں بڑے دن کے عذاب سے اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں۔
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
10:16
قُل لَّوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا تَلَوْتُهُۥ عَلَيْكُمْ وَلَآ أَدْرَىٰكُم بِهِۦ ۖ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًۭا مِّن قَبْلِهِۦٓ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ١٦
Say, "If Allāh had willed, I would not have recited it to you, nor would He have made it known to you, for I had remained among you a lifetime before it.[1] Then will you not reason?"
— Saheeh International
[1]- The Prophet (ﷺ) lived among his people forty years before receiving any revelation.
آپ ﷺ (ان سے) کہیے کہ اگر اللہ چاہتا تو نہ میں یہ قرآن تمہیں پڑھ کر سناتا اور نہ وہ تمہیں اس سے واقف کرتا میں تمہارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں اس سے پہلے۔ تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے !
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
10:17
فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِـَٔايَـٰتِهِۦٓ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلْمُجْرِمُونَ ١٧
So who is more unjust than he who invents a lie about Allāh or denies His signs? Indeed, the criminals will not succeed.
— Saheeh International
تو اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جس نے اللہ کی طرف جھوٹ بات منسوب کی یا جھٹلایا اس کی آیات کو ! یقیناً مجرم لوگ فلاح نہیں پایا کرتے۔
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
10:18
وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَـٰٓؤُلَآءِ شُفَعَـٰٓؤُنَا عِندَ ٱللَّهِ ۚ قُلْ أَتُنَبِّـُٔونَ ٱللَّهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَلَا فِى ٱلْأَرْضِ ۚ سُبْحَـٰنَهُۥ وَتَعَـٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ ١٨
And they worship other than Allāh that which neither harms them nor benefits them, and they say, "These are our intercessors with Allāh." Say, "Do you inform Allāh of something He does not know in the heavens or on the earth?" Exalted is He and high above what they associate with Him.
— Saheeh International
اور یہ لوگ پرستش کرتے ہیں اللہ کے سوا یسی چیزوں کی جو نہ انہیں کوئی نقصان پہنچا سکتی ہیں اور نہ نفع دے سکتی ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارے سفارشی ہیں اللہ کے ہاں۔ آپ ﷺ کہیے کہ کیا تم اللہ کو بتانا چاہتے ہو وہ شے جو وہ نہیں جانتا نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں ؟ وہ بہت پاک اور بلند ہے ان چیزوں سے جن کو وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
10:19
وَمَا كَانَ ٱلنَّاسُ إِلَّآ أُمَّةًۭ وَٰحِدَةًۭ فَٱخْتَلَفُوا۟ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةٌۭ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِىَ بَيْنَهُمْ فِيمَا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ١٩
And mankind was not but one community [united in religion], but [then] they differed. And if not for a word[1] that preceded from your Lord, it would have been judged between them [immediately] concerning that over which they differ.
— Saheeh International
[1]- Allāh's decree to allow time on earth for His creation or not to punish anyone before evidence has come to him.
اور نہیں تھے لوگ مگر ایک ہی امت پھر (بعد میں) انہوں نے اختلاف کیا۔ اور اگر ایک بات تیرے رب کی طرف سے پہلے سے طے نہ پا چکی ہوتی تو فیصلہ کردیا جاتا ان کے مابین ان تمام چیزوں میں جن میں یہ اختلاف کر رہے ہیں۔
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
10:20
وَيَقُولُونَ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ ءَايَةٌۭ مِّن رَّبِّهِۦ ۖ فَقُلْ إِنَّمَا ٱلْغَيْبُ لِلَّهِ فَٱنتَظِرُوٓا۟ إِنِّى مَعَكُم مِّنَ ٱلْمُنتَظِرِينَ ٢٠
And they say, "Why is a sign not sent down to him from his Lord?" So say, "The unseen is only for Allāh [to administer], so wait; indeed, I am with you among those who wait."
— Saheeh International
اور وہ کہتے ہیں کیوں نہ اتاری گئی کوئی نشانی (معجزہ) اس (رسول ﷺ پر اس کے رب کی طرف سے ؟ آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ غیب کا علم تو بس اللہ ہی کو ہے پس انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں۔
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
10:21
وَإِذَآ أَذَقْنَا ٱلنَّاسَ رَحْمَةًۭ مِّنۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ إِذَا لَهُم مَّكْرٌۭ فِىٓ ءَايَاتِنَا ۚ قُلِ ٱللَّهُ أَسْرَعُ مَكْرًا ۚ إِنَّ رُسُلَنَا يَكْتُبُونَ مَا تَمْكُرُونَ ٢١
And when We give the people a taste of mercy after adversity has touched them, at once they conspire against Our verses. Say, "Allāh is swifter in strategy." Indeed, Our messengers [i.e., angels] record that which you conspire.
— Saheeh International
اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزا چکھاتے ہیں اس تکلیف کے بعد جو ان پر آگئی تھی تو فوراً ہی وہ ہماری آیات کے بارے میں سازشیں کرنے لگتے ہیں۔ آپ ﷺ کہیے کہ اللہ اپنی تدبیروں میں کہیں زیادہ تیز ہے۔ یقیناً ہمارے فرشتے لکھ رہے ہیں جو کچھ بھی سازشیں تم لوگ کر رہے ہو۔
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
10:22
هُوَ ٱلَّذِى يُسَيِّرُكُمْ فِى ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا كُنتُمْ فِى ٱلْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِم بِرِيحٍۢ طَيِّبَةٍۢ وَفَرِحُوا۟ بِهَا جَآءَتْهَا رِيحٌ عَاصِفٌۭ وَجَآءَهُمُ ٱلْمَوْجُ مِن كُلِّ مَكَانٍۢ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُمْ أُحِيطَ بِهِمْ ۙ دَعَوُا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ لَئِنْ أَنجَيْتَنَا مِنْ هَـٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّـٰكِرِينَ ٢٢
It is He who enables you to travel on land and sea until, when you are in ships and they sail with them[1] by a good wind and they rejoice therein, there comes a storm wind and the waves come upon them from every place and they expect to be engulfed, they supplicate Allāh, sincere to Him in religion, "If You should save us from this, we will surely be among the thankful."
— Saheeh International
[1]- The change in pronoun from the second to third person shows that the following description applies specifically to the disbelievers.
وہی ہے جو تمہیں سیر کراتا ہے خشکی اور سمندر میں یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ چل رہی ہوتی ہیں انہیں (سواروں کو) لے کر خوشگوار (موافق) ہوا کے ساتھ اور وہ بہت خوش ہوتے ہیں کہ اچانک تیز ہوا کا جھکڑ چل پڑتا ہے اور ہر طرف سے موجیں ان کی طرف بڑھنے لگتی ہیں اور وہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ وہ ان (لہروں) میں گھیر لیے گئے ہیں اس وقت) وہ پکارتے ہیں اللہ کو اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے کہ (اے اللہ !) اگرُ تو نے ہمیں اس مصیبت سے نجات دے دی تو ہم لازماً ہوجائیں گے بہت شکر کرنے والوں میں سے
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
10:23
فَلَمَّآ أَنجَىٰهُمْ إِذَا هُمْ يَبْغُونَ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ ۗ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلَىٰٓ أَنفُسِكُم ۖ مَّتَـٰعَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ٢٣
But when He saves them, at once they commit injustice[1] upon the earth without right. O mankind, your injustice is only against yourselves, [being merely] the enjoyment of worldly life. Then to Us is your return, and We will inform you of what you used to do.
— Saheeh International
[1]- By oppression and disobedience or by invoking others besides Allāh.
پھر جب وہ انہیں نجات دے دیتا ہے تو فوراً ہی بغاوت کرنے لگتے ہیں زمین میں ناحق جونہی خطرے کی گھڑی ٹل جاتی ہے تو پھر انہیں دیویاں دیوتا یاد آجاتے ہیں اور پھر سے اللہ سے سرکشی شروع ہوجاتی ہے۔ اے لوگو ! تمہاری اس بغاوت کا وبال تمہاری اپنی ہی جانوں پر آئے گا یہ دنیا کی زندگی کا سازوسامان ہے (اسے برت لو) پھر ہماری ہی طرف تم سب کو لوٹنا ہے پھر ہم تم کو بتلا دیں گے جو کچھ تم کرتے رہے تھے۔
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
10:24
إِنَّمَا مَثَلُ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا كَمَآءٍ أَنزَلْنَـٰهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَٱخْتَلَطَ بِهِۦ نَبَاتُ ٱلْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ ٱلنَّاسُ وَٱلْأَنْعَـٰمُ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَخَذَتِ ٱلْأَرْضُ زُخْرُفَهَا وَٱزَّيَّنَتْ وَظَنَّ أَهْلُهَآ أَنَّهُمْ قَـٰدِرُونَ عَلَيْهَآ أَتَىٰهَآ أَمْرُنَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًۭا فَجَعَلْنَـٰهَا حَصِيدًۭا كَأَن لَّمْ تَغْنَ بِٱلْأَمْسِ ۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْـَٔايَـٰتِ لِقَوْمٍۢ يَتَفَكَّرُونَ ٢٤
The example of [this] worldly life is but like rain which We have sent down from the sky that the plants of the earth absorb - [those] from which men and livestock eat - until, when the earth has taken on its adornment and is beautified and its people suppose that they have capability over it, there comes to it Our command by night or by day, and We make it as a harvest,[1] as if it had not flourished yesterday. Thus do We explain in detail the signs for a people who give thought.
— Saheeh International
[1]- Its vegetation having been cut down or uprooted, i.e., utterly destroyed.
اس دنیا کی زندگی کی مثال تو ایسے ہے جیسے پانی جو ہم برساتے ہیں آسمان سے پھر اس کے ساتھ نکل آتا ہے زمین کا سبزہ جس میں سے کھاتے ہیں انسان بھی اور چوپائے بھی۔ یہاں تک کہ جب زمین اچھی طرح اپنا سنگھار کرلیتی ہے اور خوب مزین ہوجاتی ہے اور اس کے مالک سمجھتے ہیں کہ اب ہم اس پر قادر ہیں تو اچانک ہمارا ایک حکم آتا ہے اس (کھیت یا باغ) پر رات کے وقت یا دن کے وقت اور ہم اسے کردیتے ہیں کٹا ہوا جیسے کہ کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ اسی طرح ہم اپنی آیات کی تفصیل کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
10:25
وَٱللَّهُ يَدْعُوٓا۟ إِلَىٰ دَارِ ٱلسَّلَـٰمِ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ ٢٥
And Allāh invites to the Home of Peace [i.e., Paradise] and guides whom He wills to a straight path.
— Saheeh International
اور اللہ بلا رہا ہے تمہیں سلامتی کے گھر کی طرف اور وہ ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف۔
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
...
...
...
Comments
Post a Comment