Worship Allah alone, and do not associate any partners with Him (4:36)

 ...


The Women (4:36)


۞ وَٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا۟ بِهِۦ شَيْـًۭٔا ۖ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَـٰنًۭا وَبِذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَـٰمَىٰ وَٱلْمَسَـٰكِينِ وَٱلْجَارِ ذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْجَارِ ٱلْجُنُبِ وَٱلصَّاحِبِ بِٱلْجَنۢبِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَـٰنُكُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًۭا فَخُورًا ٣٦


Worship Allah ˹alone˺ and associate none with Him. And be kind to parents, relatives, orphans, the poor, near and distant neighbours, close friends, ˹needy˺ travellers, and those ˹bondspeople˺ in your possession. Surely Allah does not like whoever is arrogant, boastful—

— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran


Worship Allah, and do not associate with Him anything, and be good to parents and to kinsmen and orphans and the needy and the close neighbor and the distant neighbor and the companion at your side and the wayfarer and to those (slaves who are) owned by you. Surely, Allah does not like those who are arrogant, proud,

— T. Usmani


Worship Allāh and associate nothing with Him, and to parents do good, and to relatives, orphans, the needy, the near neighbor, the neighbor farther away, the companion at your side,[1] the traveler, and those whom your right hands possess. Indeed, Allāh does not like those who are self-deluding and boastful,

— Saheeh International

[1]- i.e., those whose acquaintance you have made.  Also interpreted as the wife.


 36. Worship Allâh and join none with Him (in worship); and do good to parents, kinsfolk, orphans, Al-Masâkîn (the poor), the neighbour who is near of kin, the neighbour who is a stranger, the companion by your side, the wayfarer (you meet), and those (slaves) whom your right hands possess. Verily, Allâh does not like such as are proud and boastful.

— Al-Hilali & Khan


Worship God; join nothing with Him. Be good to your parents, to relatives, to orphans, to the needy, to neighbours near and far, to travellers in need, and to your slaves. God does not like arrogant, boastful people,

— M.A.S. Abdel Haleem


Serve Allah and ascribe no partner to Him. Do good to your parents, to near of kin, to orphans, and to the needy, and to the neighbour who is of kin and to the neighbour who is a stranger, and to the companion by your side,1 and to the wayfarer, and to those whom your right hands possess. Allah does not love the arrogant and the boastful,

— A. Maududi (Tafhim commentary)

[1]The expression al-sahib bi al-janb (the companion by your side) embraces those with whom one has friendly relations of an abiding nature as well as those with whom one's relationship is transient: for instance, either the person who walks beside one on the way to the market or who sits beside one while buying things from the same shop or one's fellow traveller. Even this temporary relationship imposes certain claims on every refined and decent person - that he should treat him, as far as possible, in a kind and gracious manner and avoid causing him any inconvenience.


And serve Allah. Ascribe no thing as partner unto Him. (Show) kindness unto parents, and unto near kindred, and orphans, and the needy, and unto the neighbour who is of kin (unto you) and the neighbour who is not of kin, and the fellow-traveller and the wayfarer and (the slaves) whom your right hands possess. Lo! Allah loveth not such as are proud and boastful,

— M. Pickthall


Serve Allah, and join not any partners with Him; and do good- to parents, kinsfolk, orphans, those in need, neighbours who are near, neighbours who are strangers, the companion by your side, the wayfarer (ye meet), and what your right hands possess: For Allah loveth not the arrogant, the vainglorious;-

— A. Yusuf Ali


اور تم سب اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ ‘ ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو ‘ قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ ‘ اور پڑوسی رشتہ دار سے ‘ اجنبی ہمسایہ سے ‘ پہلو کے ساتھی اور مسافر سے اور ان لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضے میں ہوں ‘ احسان کا معاملہ رکھو ‘ یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کرے

— Fe Zilal al-Qur'an


اور تم سب اللہ کی بندگی کرو، اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناوٴ، ماں باپ کے ساتھ نیک برتاوٴ کرو، قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آوٴ، اور پڑوسی رشتہ دار سے، اجنبی ہمسایہ سے، پہلو کے ساتھی1 اور مسافر سے، اور اُن لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضہ میں ہوں، احسان کا معاملہ رکھو، یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کرے

— Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

[1] متن میں”الصا حب بالجنب“ فرمایا گیا ہے جس سے مراد ہم نشین دوست بھی ہےاور ایسا شخص بھی جس سے کہیں کسی وقت آدمی کا ساتھ ہو جائے۔ مثلاً آپ بازار میں جا رہے ہوں اور کوئی شخص آپ کے ساتھ راستہ چل رہا ہو، یا کسی دوکان پر آپ سودا خرید رہے ہوں اور کوئی دوسرا خریدا ر بھی آپ کے پاس بیٹھا ہو ، یاسفر کے دوران میں کوئی شخص آپ کا ہم سفر ہو۔ یہ عارضی ہمسائیگی بھی ہر مہذّب اور شریف انسان پر ایک حق عائد کرتی ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ حتی الامکان اس کے ساتھ نیک برتا ؤ کرے اور اسے تکلیف دینے سے مجتنب رہے۔


اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ سلوک واحسان کرو اور رشتہ داروں سے اور یتیموں سے اور مسکینوں سے اور قرابت دار ہمسایہ سے اور اجنبی ہمسایہ سے[1] اور پہلو کے ساتھی سے[2] اور راه کے مسافر سے اور ان سے جن کے مالک تمہارے ہاتھ ہیں، (غلام کنیز)[3] یقیناً اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں اور شیخی خوروں کو پسند نہیں فرماتا۔[4]

— Maulana Muhammad Junagarhi

[1]اس میں گھر، دوکان اور کارخانوﮞ، ملوں کے ملازم اور نوکر چاکر بھی آجاتے ہیں، غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کی بڑی تاکید احادیث میں آئی ہے۔

[2]الْجَارِ الْجُنُبِ قرابت دار پڑوسی کے مقابلے میں استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں ایسا پڑوسی جس سے قرابت داری نہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ پڑوسی سے بہ حیثیت پڑوسی کے حسن سلوک کیا جائے، وہ رشتہ دار ہو یا غیر رشتہ دار جس طرح کہ احادیث میں بھی اس کی بڑی تاکید بیان کی گئی ہے۔

[3]اس سے مراد رفیق سفر، شریک کار، بیوی اور وہ شخص جو فائدے کی امید پر کسی کی قربت وہم نشینی اختیار کرے۔ بلکہ اس کی تعریف میں وہ لوگ بھی آسکتے ہیں جنہیں تحصیل علم، تعلم صناعت (کوئی کام سیکھنے) کے لئے یا کسی کاروبارﯼ سلسلے میں آپ کے پاس بیٹھنے کا موقع ملے۔ (فتح القدیر)

[4]فخر وغرور اور تکبر اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے بلکہ ایک حدیث میں یہاں تک آتا ہے کہ ”وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی کبر ہوگا۔“ (صحیح مسلم کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ حدیث نمبر 19) یہاں کبر کی بطور خاص مذمت سے یہ مقصد ہے کہ اللہ تعال۔ کی عبادت اور جن جن لوگوں سے حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے۔ اس پر عمل وہی شخص کر سکتا ہے جس کا دل کبر سے خالی ہوگا۔ متکبر اور مغرورشخص صحیح معنوں مین نہ حق عبادت ادا کر سکتا ہے اور نہ اپنوں اور بیگانوں کے ساتھ حسن سلوک کا اہتمام۔


اور خدا ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ اور قرابت والوں اور یتیموں اور محتاجوں اور رشتہ دار ہمسائیوں اور اجنبی ہمسائیوں اور رفقائے پہلو (یعنی پاس بیٹھنے والوں) اور مسافروں اور جو لوگ تمہارے قبضے میں ہوں سب کے ساتھ احسان کرو کہ خدا (احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور) تکبر کرنے والے بڑائی مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا

— Fatah Muhammad Jalandhari


اور اللہ ہی کی بندگی کرو اور کسی چیز کو بھی اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اور قرابت داروں یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ اور قرابت دار ہمسائے اور اجنبی ہمسائے کے ساتھ اور ہم نشین ساتھی اور مسافر کے ساتھ اور وہ لونڈی غلام جو تمہارے ملک یمین ہیں (ان کے ساتھ بھی نیک سلوک کرو) اللہ بالکل پسند نہیں کرتا ان لوگوں کو جو شیخی خورے اور اکڑنے والے ہوں

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


اور بندگی کرو اللہ کی اور شریک نہ کرو اس کا کسی کو [1] اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور قرابت والوں کے ساتھ اور یتیموں اور فقیروں اور ہمسایہ قریب اور ہمسایہ اجنبی اور پاس بیٹھنے والےاور مسافر کے ساتھ اور اپنے ہاتھ کے مال یعنی غلام باندیوں کے ساتھ بیشک اللہ کو پسند نہیں آتا اترانے والا بڑائی کرنے والا [2]

— Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

[1]یعنی عبادت اور نیک عمل خدا پر یقین کر کے اور ثواب آخرت کی توقع سے کرو فخر اور ریا سے مال دینا یہ بھی شرک ہے گو کم درجہ کا ہے۔

[2]حقوق العباد اور انکی ترتیب:یتامٰی اور نساء اور ورثہ اور زوجین کے حقوق اور انکے ساتھ حسن معاملہ کو بیان فرما کر اب یہ ارشاد ہےکہ ہر ایک کا حق درجہ بدرجہ تعلق کے موافق اور حاجتمندی کے مناسب ادا کرو سب سے مقدم اللہ تعالیٰ کا حق ہے پھر ماں باپ کا پھر درجہ بدرجہ سب واسطہ داروں اور حاجتمندوں کا اور ہمسایہ قریب اور غیر قریب سے مراد قرب و بُعد نسبی ہے یا قرب و بُعد مکانی صورت اولیٰ میں یہ مطلب ہوگا کہ ہمسایہ قرابتی کا حق ہمسایہ اجنبی سے زیادہ ہوگا اورصورت ثانیہ کا مدعا یہ ہو گا کہ پاس کا ہمسایہ کا حق بعید یعنی جو کہ فاصلہ سے رہتا ہے اس سے زیادہ ہے اور پاس بیٹھنے والے میں رفیق سفر اور پیشہ کے اور کام کے شریک اور ایک آقا کے دو نوکر اور ایک استاد کے دو شاگرد اور دوست اور شاگرد اور مرید وغیرہ سب داخل ہیں اور مسافر میں مہمان غیر مہمان دونوں آ گئے اور مال مملوک غلام اور لونڈی کے علاہ دیگر حیوانات کو بھی شامل ہے آخر میں فرما دیا کہ جس کے مزاج میں تکبر اور خود پسندی ہوتی ہے کہ کسی کو اپنے برابر نہ سمجھے اپنے مال پر مغرور اور عیش میں مشغول ہو  وہ ان حقوق کو ادا نہیں کرتا سو اس سے احتراز  رکھو اور جدا رہو۔


اور اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ بناؤ اور اچھا سلوک کرو ماں باپ کے ساتھ اور قرابت داروں کے ساتھ اور یتیموں اور مسکینوں اور قرابت دار پڑوسی اور اجنبی پڑوسی اور پاس بیٹھنے والے اور مسافر کے ساتھ اور مملوک کے ساتھ بے شک اللہ پسند نہیں کرتا اترانے والے، بڑائی کرنے والے کو

— Maulana Wahiduddin Khan


Aur tum sab Allah ki bandagi karo, uske saath kisi ko shareek na banao, Maa Baap ke saath neik bartao karo, qarabatdaaron (kins) aur yateemon aur miskeeno ke saath husn e sulook se pesh aao, aur padosi rishtedaar se, ajnabi humsaye (neighbor) se, pehlu ke saathi (companion by your side) aur musafir se , aur un laundi ghulamon se jo tumhare qabze mein hon, ehsan ka maamla rakkho, yaqeen jaano Allah kisi aisey shaks ko pasand nahin karta jo apne pindaar mein magroor ho aur apni badayi par fakr karey(arrogant and the boastful)

— Abul Ala Maududi(Roman Urdu)

[https://quran.com/4/36]


Worship is exclusively for Allah alone. He has no partners. 

Your parents deserve your goodness. 

Allah mentions excellence with parents right after He mentions His worship. Many polytheistic nations have gone astray by associating either their prophets or their parents in a familial relationship or sharing divinity with God. This is an extreme going astray, and a punishable offence. There is no deity except Allah. There is no sharing of His Divinity. He has no family. There is no one like Him. To Him alone belongs worship. 





...





...

Comments

Popular posts from this blog

Do not give short measure and weight (11:84, 87)

The Warning (11:26)

Shuaib preached: worship Allah (7:85)