Deen-e-Qayyimah (Q12:40)

  [Q9:36; Q12:40; Q30:30] 

Joseph (12:40)


مَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ أَسْمَآءًۭ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَـٰنٍ ۚ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۚ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّآ إِيَّاهُ ۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّمُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ٤٠


Whatever ˹idols˺ you worship instead of Him are mere names which you and your forefathers have made up[1]—a practice Allah has never authorized. It is only Allah Who decides. He has commanded that you worship none but Him. That is the upright faith, but most people do not know.

— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran

[1] Meaning, “You call them gods while in fact they are not gods.”


Whatever you worship, other than Him, are nothing but names you have coined, you and your fathers. Allah has sent down no authority for them. Sovereignty belongs to none but Allah. He has ordained that you shall not worship anyone but Him. This is the only right path. But most of the people do not know.”

— T. Usmani


You worship not besides Him except [mere] names you have named them,[1] you and your fathers, for which Allāh has sent down no evidence. Legislation is not but for Allāh. He has commanded that you worship not except Him. That is the correct religion, but most of the people do not know.

— Saheeh International

[1]- The false objects of worship which you have called "gods."


Those whom ye worship beside Him are but names which ye have named, ye and your fathers. Allah hath revealed no sanction for them. The decision rests with Allah only, Who hath commanded you that ye worship none save Him. This is the right religion, but most men know not.

— M. Pickthall


"If not Him, ye worship nothing but names which ye have named,- ye and your fathers,- for which Allah hath sent down no authority: the command is for none but Allah: He hath commanded that ye worship none but Him: that is the right religion, but most men understand not...

— A. Yusuf Ali


اس کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کر رہے ہو ، وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباء و اجداد نے رکھ لیے ہیں ، اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی۔ فرمانروائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔ اس کا حکم ہے کہ خود اس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو ، یہی ٹھیٹھ سیدھا طریق زندگی ہے ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

— Fe Zilal al-Qur'an


اُس کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کر رہے ہو وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباؤ اجداد نے رکھ لیے ہیں، اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی فرماں روائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے اس کا حکم ہے کہ خود اس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو یہی ٹھیٹھ سیدھا طریق زندگی ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

— Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi


اس کے سوا تم جن کی پوجا پاٹ کر رہے ہو وه سب نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے خود ہی گھڑ لئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی[1] ، فرمانروائی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے، اس کا فرمان ہے کہ تم سب سوائے اس کے کسی اور کی عبادت نہ کرو، یہی دین درست [2]ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے.[3]

— Maulana Muhammad Junagarhi

[1]اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ ان کا نام معبود تم نے خود ہی رکھ لیا ہے، دراں حالیکہ وہ معبود ہیں نہ ان کی بابت کوئی دلیل اللہ نے اتاری ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان معبودوں کے جو مختلف نام تم نے تجویز کر رکھے ہیں۔ مثلا خواجہ غریب نواز، گنج بخش کرنی والا، کرماں والا وغیرہ یہ سب تمہارے خود ساختہ ہیں۔ ان کی کوئی دلیل اللہ نے نہیں اتاری۔

[2]یہی دین، جس کی طرف میں تمہیں بلا رہا ہوں، جس میں صرف ایک اللہ کی عبادت ہے، درست اور رقیم ہے جس کا حکم اللہ نے دیا ہے۔

[3]جس کی وجہ سے اکثر لوگ شرک کا ارتکاب کرتے ہیں «وَمَاوَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ» (سورۂ یوسف:106) ”ان میں سے اکثر لوگ باوجود اللہ پر ایمان رکھنے کے بھی مشرک ہی ہیں“ اور فرمایا «وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ» (سورۂ یوسف:103) ”اے پیغمبر تیری خواہش کے باوجود اکثر لوگ اللہ پر ایمان لانے والے نہیں ہیں“۔


جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں۔ خدا نے ان کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ (سن رکھو کہ) خدا کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔ اس نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

— Fatah Muhammad Jalandhari


نہیں پوجتے تم اس (اللہ) کے سوا مگر چند ناموں کو جو موسوم کر رکھے ہیں تم لوگوں نے اور تمہارے آباء و اَجداد نے نہیں اتاری اللہ نے ان کے لیے کوئی سند۔ اختیار مطلق تو صرف اللہ ہی کا ہے اس نے حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی بندگی مت کرو یہی ہے دین سیدھا (اور ہمیشہ سے قائم و دائم) لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


کچھ نہیں پوجتے ہو سوائے اس کے مگر نام ہیں جو رکھ لئے ہیں تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے نہیں اتاری اللہ نے ان کی کوئی سند [1] حکومت نہیں ہے کسی کی سوائے اللہ کے اس نے فرما دیا کہ نہ پوجو مگر اسی کو [2] یہی ہے راستہ سیدھا پر بہت لوگ نہیں جانتے [3]

— Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

[1]یعنی قدیم سے انبیاء علیہم السلام کی زبانی یہ ہی حکم بھیجتا رہا کہ خدا کی عبادت میں کسی کو شریک مت کرو۔ وَ سۡـَٔلۡ مَنۡ  اَرۡسَلۡنَا مِنۡ  قَبۡلِکَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ  اَجَعَلۡنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ اٰلِـہَۃً   یُّعۡبَدُوۡنَ (زخرف۔۴۵)

[2]یعنی توحید خالص کے راستہ میں ایچ پیچ کچھ نہیں۔ سیدھی اور صاف سڑک ہے جس پر چل کر آدمی بے کھٹکے خدا تک پہنچتا ہے لیکن بہت لوگ حماقت یا تعصب سے ایسی سیدھی بات کو بھی نہیں سمجھتے۔

[3]قیدیوں کو حضرت یوسف علیہ السلام کی تبلیغ:یعنی یوں ہی بے سند اور بے ٹھکانے کچھ نام رکھ چھوڑے ہیں جن کے نیچے حقیقت ذرہ برابر نہیں۔ ان ہی نام کے خداؤں کی پوجا کر رہے ہو ۔ ایسے جہل پر انسان کو شرمانا چاہئے۔


تم اس کے سوا نہیں پوجتے ہو مگر کچھ ناموں کو جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ ليے ہیں  اللہ نے اس کی کوئی سند نہیں اتاری اقتدار صرف اللہ کے ليے ہے اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو یہی سیدھا دین ہے مگر بہت لوگ نہیں جانتے

— Maulana Wahiduddin Khan

[https://quran.com/yusuf/40]


The Quran is very very clear that Allah سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى is the only God. 

There is no divine family. 

There are no sharers in His Divinity. 

So, in polytheist Egypt, after spending time being a slave in a rich household, and after that, while imprisoned on false charges, Joseph (Yusuf عليه السلام) is preaching monotheism to his fellow prisoners. 

Joseph (Yusuf عليه السلام) was the son of Prophet Jacob (Yaqub عليه السلام), a descendant of Prophet Abraham (Ibrahim عليه السلام) and Prophet Isaac (Ishaq عليه السلام). 

He was separated from his father at a young age, and he grew up in polytheist Egypt. 

He was invited to sin, and when he resisted, he was thrown in jail. 

So, Joseph (Yusuf عليه السلام) had a monotheist background, and a good comprehension of polytheist Egypt. He understood the falsehoods of their beliefs. 

So, reading in context: 

Joseph (12:30-40)


12:30

۞ وَقَالَ نِسْوَةٌۭ فِى ٱلْمَدِينَةِ ٱمْرَأَتُ ٱلْعَزِيزِ تُرَٰوِدُ فَتَىٰهَا عَن نَّفْسِهِۦ ۖ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا ۖ إِنَّا لَنَرَىٰهَا فِى ضَلَـٰلٍۢ مُّبِينٍۢ ٣٠


And women in the city said, "The wife of al-ʿAzeez is seeking to seduce her slave boy; he has impassioned her with love. Indeed, we see her [to be] in clear error."

— Saheeh International


اور شہر میں عورتوں نے (اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے) کہا کہ عزیز کی بیوی تو اپنے غلام کو پھسلا رہی ہے وہ اس کی محبت میں گرفتار ہوچکی ہے یقیناً ہم دیکھتے ہیں کہ وہ بہت بھٹک گئی ہے

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


12:31

فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَـًۭٔا وَءَاتَتْ كُلَّ وَٰحِدَةٍۢ مِّنْهُنَّ سِكِّينًۭا وَقَالَتِ ٱخْرُجْ عَلَيْهِنَّ ۖ فَلَمَّا رَأَيْنَهُۥٓ أَكْبَرْنَهُۥ وَقَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَـٰشَ لِلَّهِ مَا هَـٰذَا بَشَرًا إِنْ هَـٰذَآ إِلَّا مَلَكٌۭ كَرِيمٌۭ ٣١


So when she heard of their scheming, she sent for them and prepared for them a banquet and gave each one of them a knife and said [to Joseph], "Come out before them." And when they saw him, they greatly admired him and cut their hands[1] and said, "Perfect is Allāh![2] This is not a man; this is none but a noble angel."

— Saheeh International
[1]So distracted were they at the sight of him.
[2]In His ability to create such beauty.


پھر جب اس نے سنیں ان کی مکارانہ باتیں اس نے دعوت دی ان سب کو اور اہتمام کیا ایک تکیہ دار مجلس کا اور ان میں سے ہر عورت کو اس نے ایک چھری دے دی اور (یوسف سے) کہا کہ اب تم ان کے سامنے آؤ پھر جب انہوں نے یوسف کو دیکھا تو اسے بہت عظیم جانا (ششدر رہ گئیں) اور ان سب نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور وہ پکار اٹھیں کہ حاشا للہ یہ کوئی آدمی تو نہیں ! یہ تو کوئی بہت بزرگ فرشتہ ہے

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


12:32

قَالَتْ فَذَٰلِكُنَّ ٱلَّذِى لُمْتُنَّنِى فِيهِ ۖ وَلَقَدْ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفْسِهِۦ فَٱسْتَعْصَمَ ۖ وَلَئِن لَّمْ يَفْعَلْ مَآ ءَامُرُهُۥ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونًۭا مِّنَ ٱلصَّـٰغِرِينَ ٣٢


She said, "That is the one about whom you blamed me. And I certainly sought to seduce him, but he firmly refused; and if he will not do what I order him, he will surely be imprisoned and will be of those debased."

— Saheeh International


تو اس عورت نے کہا کہ یہ ہے وہ جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کر رہی تھیں اور یقیناً میں نے اسے پھسلانا چاہا تھا لیکن وہ بچا رہا اور اگر اس نے وہ نہ کیا جو میں اسے حکم دے رہی ہوں تو وہ لازماً قید میں پڑے گا اور ضرور ذلیل ہو کر رہے گا

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


12:33

قَالَ رَبِّ ٱلسِّجْنُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا يَدْعُونَنِىٓ إِلَيْهِ ۖ وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّى كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن مِّنَ ٱلْجَـٰهِلِينَ ٣٣


He said, "My Lord, prison is more to my liking than that to which they invite me. And if You do not avert from me their plan, I might incline toward them and [thus] be of the ignorant."

— Saheeh International


یوسف نے دعا کی : اے میرے پروردگار ! مجھے قید زیادہ پسند ہے اس چیز سے جس کی طرف یہ مجھے بلا رہی ہیں اور اگر تو نے مجھ سے دور نہ کردیا ان کی چالوں کو تو (ہو سکتا ہے) میں بھی ان کی طرف مائل ہوجاؤں اور جاہلوں میں سے ہوجاؤں

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


12:34

فَٱسْتَجَابَ لَهُۥ رَبُّهُۥ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ ٣٤


So his Lord responded to him and averted from him their plan. Indeed, He is the Hearing, the Knowing.

— Saheeh International


تو آپ کے رب نے آپ کی دعا قبول کرلی اور ان عورتوں کی چالوں کو آپ سے پھیر دیا۔ یقیناً وہی ہے سننے والا جاننے والا

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


12:35

ثُمَّ بَدَا لَهُم مِّنۢ بَعْدِ مَا رَأَوُا۟ ٱلْـَٔايَـٰتِ لَيَسْجُنُنَّهُۥ حَتَّىٰ حِينٍۢ ٣٥


Then it appeared to them after they had seen the signs[1] that he [i.e., al-ʿAzeez] should surely imprison him for a time.[2]

— Saheeh International
[1]Until the scandal be forgotten.
[2]Proofs of his innocence.


پھر ان لوگوں کو یہ بات سوجھی ساری نشانیاں دیکھ لینے کے بعد کہ اس کو کچھ عرصہ کے لیے جیل میں ڈال دیا جائے

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


12:36

وَدَخَلَ مَعَهُ ٱلسِّجْنَ فَتَيَانِ ۖ قَالَ أَحَدُهُمَآ إِنِّىٓ أَرَىٰنِىٓ أَعْصِرُ خَمْرًۭا ۖ وَقَالَ ٱلْـَٔاخَرُ إِنِّىٓ أَرَىٰنِىٓ أَحْمِلُ فَوْقَ رَأْسِى خُبْزًۭا تَأْكُلُ ٱلطَّيْرُ مِنْهُ ۖ نَبِّئْنَا بِتَأْوِيلِهِۦٓ ۖ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلْمُحْسِنِينَ ٣٦


And there entered the prison with him two young men. One of them said, "Indeed, I have seen myself [in a dream] pressing [grapes for] wine." The other said, "Indeed, I have seen myself carrying upon my head [some] bread, from which the birds were eating. Inform us of its interpretation; indeed, we see you to be of those who do good."

— Saheeh International


اور داخل ہوئے آپ کے ساتھ جیل میں دو نوجوان ان میں سے ایک نے کہا کہ میں نے اپنے آپ کو خواب میں دیکھا ہے کہ میں شراب کشید کر رہا ہوں اور دوسرے نے کہا کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور پرندے اس میں سے کھا رہے ہیں ہمیں ان خوابوں کی تعبیر بتا دیجیے ہم آپ کو بہت نیکوکار دیکھتے ہیں

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


12:37

قَالَ لَا يَأْتِيكُمَا طَعَامٌۭ تُرْزَقَانِهِۦٓ إِلَّا نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِۦ قَبْلَ أَن يَأْتِيَكُمَا ۚ ذَٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِى رَبِّىٓ ۚ إِنِّى تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍۢ لَّا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَهُم بِٱلْـَٔاخِرَةِ هُمْ كَـٰفِرُونَ ٣٧


He said, "You will not receive food that is provided to you except that I will inform you of its interpretation before it comes to you. That is from what my Lord has taught me. Indeed, I have left the religion of a people who do not believe in Allāh, and they, in the Hereafter, are disbelievers.

— Saheeh International


یوسف نے فرمایا کہ تم لوگوں کو جو کھانا دیا جاتا ہے اس کے آنے سے پہلے پہلے میں تم دونوں کو اس کی تعبیر بتادوں گا یہ اس علم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے سکھایا ہے دیکھو !) میں نے ترک کردیا ہے اس قوم کا راستہ جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے یہی لوگ منکر ہیں

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


12:38

وَٱتَّبَعْتُ مِلَّةَ ءَابَآءِىٓ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَـٰقَ وَيَعْقُوبَ ۚ مَا كَانَ لَنَآ أَن نُّشْرِكَ بِٱللَّهِ مِن شَىْءٍۢ ۚ ذَٰلِكَ مِن فَضْلِ ٱللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى ٱلنَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ ٣٨


And I have followed the religion of my fathers, Abraham, Isaac and Jacob. And it was not for us to associate anything with Allāh. That is from the favor of Allāh upon us and upon the people, but most of the people are not grateful.

— Saheeh International


اور میں نے پیروی کی ہے اپنے آباء ابراہیم اسحاق اور یعقوب کے طریقے کی (دیکھو !) ہمارے لیے یہ روا نہیں ہے کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی بھی شے کو شریک کریں یہ اللہ کا بڑا فضل ہے ہم پر اور سب لوگوں پر لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


12:39

يَـٰصَـٰحِبَىِ ٱلسِّجْنِ ءَأَرْبَابٌۭ مُّتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ ٱللَّهُ ٱلْوَٰحِدُ ٱلْقَهَّارُ ٣٩


O [my] two companions of prison, are separate lords better or Allāh, the One,[1] the Prevailing?[2]

— Saheeh International
[1]Single, individual and unique in His attributes and His deeds.
[2]He who subdues doubts and false arguments with clear evidences and who subdues and imposes His will upon all creation.


اے میرے جیل کے دونوں ساتھیو ! کیا بہت سے متفرق رب بہتر ہیں یا اکیلا اللہ سب پر حاوی و غالب

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)


12:40

مَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ أَسْمَآءًۭ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَـٰنٍ ۚ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۚ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّآ إِيَّاهُ ۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّمُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ٤٠


You worship not besides Him except [mere] names you have named them,[1] you and your fathers, for which Allāh has sent down no evidence. Legislation is not but for Allāh. He has commanded that you worship not except Him. That is the correct religion, but most of the people do not know.

— Saheeh International
[1]- The false objects of worship which you have called "gods."


نہیں پوجتے تم اس (اللہ) کے سوا مگر چند ناموں کو جو موسوم کر رکھے ہیں تم لوگوں نے اور تمہارے آباء و اَجداد نے نہیں اتاری اللہ نے ان کے لیے کوئی سند۔ اختیار مطلق تو صرف اللہ ہی کا ہے اس نے حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی بندگی مت کرو یہی ہے دین سیدھا (اور ہمیشہ سے قائم و دائم) لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے

— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)

[https://quran.com/yusuf/30-40]





... 


Related Posts 

AL-Ra 

Allah (links page) 

Surah Yusuf (links page)





... 

Comments

Popular posts from this blog

Do not give short measure and weight (11:84, 87)

The Warning (11:26)

Shuaib preached: worship Allah (7:85)