worshipping whom the ancestors worshipped (11:109)
...
Hud (11:109)
فَلَا تَكُ فِى مِرْيَةٍۢ مِّمَّا يَعْبُدُ هَـٰٓؤُلَآءِ ۚ مَا يَعْبُدُونَ إِلَّا كَمَا يَعْبُدُ ءَابَآؤُهُم مِّن قَبْلُ ۚ وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنقُوصٍۢ ١٠٩
So do not be in doubt ˹O Prophet˺ about what those ˹pagans˺ worship. They worship nothing except what their forefathers worshipped before ˹them˺. And We will certainly give them their share ˹of punishment˺ in full, without any reduction.
— Dr. Mustafa Khattab, The Clear Quran
So, be not in doubt about what they worship. They worship only in the way their fathers used to worship earlier. Surely, We are going to pay them their full share, not curtailed in the least.
— T. Usmani
So do not be in doubt, [O Muḥammad], as to what these [polytheists] are worshipping. They worship not except as their fathers worshipped before. And indeed, We will give them their share undiminished.
— Saheeh International
So be not thou in doubt concerning that which these (folk) worship. They worship only as their fathers worshipped aforetime. Lo! we shall pay them their whole due unabated.
— M. Pickthall
Be not then in doubt as to what these men worship. They worship nothing but what their fathers worshipped before (them): but verily We shall pay them back (in full) their portion without (the least) abatement.
— A. Yusuf Ali
پس اے نبی ﷺ تو ان معبودوں کی طرف سے کسی شک میں نہ رہ ، جن کی یہ لوگ عبادت کر رہے ہیں۔ یہ تو (بس لکیر کے فقیر بنے ہوئے) اسی طرح پوجا پاٹ کیے جا رہے ہیں جس طرح پہلے ان کے باپ دادا کرتے تھے اور ہم ان کا حصہ انہیں بھر پور دیں گے بغیر اس کے کہ اس میں کچھ کاٹ کسر ہو
— Fe Zilal al-Qur'an
پس اے نبی ؐ ، تُو ان معبودوں کی طرف سے کسی شک میں نہ رہ جن کی یہ لوگ عبادت کر رہے ہیں۔ یہ تو (بس لکیر کے فقیر بنے ہوئے)اُسی طرح پُوجا پاٹ کیے جارہے ہیں جس طرح پہلے ان کے باپ دادا کرتے تھے،1 اور ہم ان کا حصہ انہیں بھرپور دیں گے بغیر اس کے کہ اس میں کچھ کاٹ کسر ہو
— Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi
[1]اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم واقعی ان معبودوں کی طرف سے کسی شک میں تھے، بلکہ دراصل یہ باتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے عامۃ الناس کو سنائی جا رہی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کسی مرد معقول کو اس شک میں نہ رہنا چاہیے کہ یہ لوگ جو ان معبودوں کی پرستش کرنے اور ان سے دعائیں مانگنے میں لگے ہوئے ہیں تو آخر کچھ تو انہوں نے دیکھا ہو گا جس کی وجہ سے یہ ان سے نفع کی امیدیں رکھتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ پرستش اور نذریں اور نیازیں اور دعائیں کسی علم، کسی تجربے اور کسی حقیقی مشاہدے کی بنا پر نہیں ہیں بلکہ یہ سب کچھ نری اندھی تقلید کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ آخر یہی آستانے پچھلی قوموں کے ہاں بھی موجود تھے۔ اور ایسی ہی ان کی کرامتیں ان میں بھی مشہور تھیں۔ مگر جب خدا کا عذاب آیا تو وہ تباہ ہو گئیں اور یہ آستانے یونہی دھرے کے دھرے رہ گئے۔
اس لئے آپ ان چیزوں سے شک وشبہ میں نہ رہیں جنہیں یہ لوگ پوج رہے ہیں، ان کی پوجا تو اس طرح ہے جس طرح ان کے باپ دادوں کی اس سے پہلے تھی۔ ہم ان سب کو ان کا پورا پورا حصہ بغیر کسی کمی کے دینے والے ہی ہیں.[1]
— Maulana Muhammad Junagarhi
[1]اس سے مراد وہ عذاب ہے جس کے وہ مستحق ہوں گے، اس میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔
تو یہ لوگ جو (غیر خدا کی) پرستش کرتے ہیں۔ اس سے تم خلجان میں نہ پڑنا۔ یہ اسی طرح پرستش کرتے ہیں جس طرح پہلے سے ان کے باپ دادا پرستش کرتے آئے ہیں۔ اور ہم ان کو ان کا حصہ پورا پورا بلا کم وکاست دینے والے ہیں
— Fatah Muhammad Jalandhari
پس (اے نبی !) آپ کسی شک میں نہ رہیں ان کے بارے میں جن کی یہ لوگ پوجا کر رہے ہیں یہ لوگ نہیں پوجا کر رہے ہیں مگر ایسے ہی جیسے کہ ان کے آباء و اَجداد پوجا کرتے رہے ہیں اس سے پہلے اور یقیناً ہم ان کو دینے والے ہیں ان کا حصہ بغیر کسی کمی کے
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
سو تو نہ رہ دھوکے میں ان چیزوں سے جن کو پوجتے ہیں یہ لوگ کچھ نہیں پوجتے مگر ویسا ہی جیسا کہ پوجتے تھے انکے باپ دادے اس سے پہلے اور ہم دینے والے ہیں انکو انکا حصہ یعنی عذاب سے بلا نقصان [1]
— Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)
[1]یعنی اتنی مخلوق کا شرک و بت پرستی کے راستہ پر پڑ لینا اور اب تک سزایاب نہ ہونا ، کوئی ایسی چیز نہیں جس سے دھوکہ کھا کر آدمی شبہ میں پڑ جائے ۔ یہ لوگ اپنے باپ دادوں کی کورانہ تقلید کر رہے ہیں وہ جھوٹے معبود ان کے کیا کام آئے، جو ان کے کام آئیں گے ؟ یقینًا ان سب کو آخرت میں عذاب کا پورا حصہ ملے گا ۔ جس میں کوئی کمی نہ ہو گی یا کبھی کم نہ کیا جائے گا۔ گویا لفظ غَیۡرَ مَنۡقُوۡصٍ ، عَطَآءً غَیۡرَ مَجۡذُوۡذٍ کے مقابل ہوا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ دنیا میں رزق وغیرہ کا جو حصہ مقدر ہے وہ پورا ملے گا۔ پھر شرک کی پوری سزا بھگتیں گے۔
پس تو ان چیزوں سے شک میں نہ رہ جن کی یہ لوگ عبادت کر رہے ہیں یہ تو بس اسی طرح عبادت کر رہے ہیں جس طرح ان سے پہلے ان کے باپ دادا عبادت کر رہے تھے اور ہم ان کاحصہ انھیں پورا پورا دیں گے بغیر کسی کمی کے
— Maulana Wahiduddin Khan
The Quran strongly objects to the blind worship of whatever or whoever the ancestors worshipped.
Humans are expected to use their intellect and take guidance from the scriptures.
There is only one god, Allah, and He alone deserves worship.
There is no other god.
Besides, as explained in Surah Al-Araf, all Bani Adam have already witnessed upon their 'nafs' that Allah is their Rabb, and for that matter, their soul (nafs) is pledged:
The Heights (7:172-174)
7:172
وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنۢ بَنِىٓ ءَادَمَ مِن ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۖ قَالُوا۟ بَلَىٰ ۛ شَهِدْنَآ ۛ أَن تَقُولُوا۟ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَـٰذَا غَـٰفِلِينَ ١٧٢
(Recall) when your Lord brought forth their progeny from the loins of the children of ’Ādam, and made them testify about themselves (by asking them,) “Am I not your Lord?” They said, “Of course, You are. We testify.” (We did so) lest you should say on the Day of Judgment, “We were unaware of this,”
— T. Usmani
اور یاد کرو جب نکالا آپ ﷺ کے رب نے تمام بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی نسل کو اور ان کو گواہ بنایا خود ان کے اوپر (اور سوال کیا) کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ! ہم اس پر گواہ ہیں مبادا تم یہ کہو قیامت کے دن کہ ہم تو اس سے غافل تھے
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
7:173
أَوْ تَقُولُوٓا۟ إِنَّمَآ أَشْرَكَ ءَابَآؤُنَا مِن قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةًۭ مِّنۢ بَعْدِهِمْ ۖ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ ٱلْمُبْطِلُونَ ١٧٣
or you should say, “It was our forefathers who associated partners with Allah, and we were their progeny after them; would you then destroy us on account of what the erroneous did?”
— T. Usmani
یا تم یہ کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے آباء و اجداد نے کیا تھا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل میں سے تھے تو (پروردگار !) کیا تو ہمیں ہلاک کرے گا ان باطل پسند لوگوں کے فعل کے بدلے میں ؟
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
7:174
وَكَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْـَٔايَـٰتِ وَلَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ١٧٤
This is how We elaborate the verses, so that they may return.
— T. Usmani
اور ہم اسی طرح اپنی آیات کو تفصیل سے بیان کردیتے ہیں تاکہ وہ رجوع کریں۔
— بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد)
[https://quran.com/al-araf/172-174]
...
...
...
Comments
Post a Comment